
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے قومی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں جائے گی اور ایران اپنی خودمختاری کے حق کے تحت اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں سے خدمات کے عوض فیس وصول کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں یہ شق شامل ہے کہ مذاکراتی عمل کے ابتدائی 60 روز کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی، تاہم اس مدت کے بعد ایران خدمات کے عوض باقاعدہ فیس نافذ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
قالیباف نے واضح کیا کہ ایران بین الاقوامی قوانین اور بحری نقل و حمل کے ضوابط کی خلاف ورزی کا ارادہ نہیں رکھتا، بلکہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری اور فراہم کی جانے والی خدمات کے بدلے فیس وصول کرنے کے حق کو استعمال کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ نے جنگ شروع کرتے وقت جو نو اہداف مقرر کیے تھے، ان میں سے کسی ایک کو بھی حاصل نہیں کرسکا اور دشمن اپنے تمام مقاصد میں ناکام رہا۔ حالیہ جنگ نے مختلف سیاسی، عسکری اور جغرافیائی حقائق کو پوری طرح نمایاں کر دیا۔
ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج کی مضبوط کارکردگی اور عوام کی مسلسل عوامی حمایت کی وجہ سے ایران مذاکرات میں طاقت سے بات کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
قالیباف نے یاد دلایا کہ آٹھ سالہ ایران۔عراق جنگ کے دوران بھی مذاکرات ہوئے تھے، جن کے نتیجے میں قرارداد 598 منظور ہوئی تھی۔ جوہری مذاکرات، جوہری معاہدہ اور گزشتہ جنگوں کے دوران ہونے والے مذاکرات بھی ایران کی سفارتی تاریخ کا حصہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ جنگ کے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب ہوئے اور اس کے نتائج جغرافیائی، عسکری اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں طور پر دیکھے گئے۔ ایران پر یہ جنگ جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس دنیا کی بڑی عسکری، اقتصادی اور سیاسی طاقتوں اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی تھی۔
اسپیکر نے کہا کہ حالیہ جنگ میں دو مختلف نظریات آمنے سامنے تھے، جن میں ایک توحیدی اور مزاحمتی فکر کی نمائندگی کرتا تھا جبکہ دوسرا تکبر اور بالادستی کے رویے کا مظہر تھا۔
