امریکہ پر بالکل اعتماد نہیں، معاہدے پر عملدرآمد کی ذمہ داری واشنگٹن پر ہے، عراقچی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خاتمے سمیت مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں کے مکمل اور مؤثر نفاذ کی ذمہ داری واشنگٹن پر عائد ہوتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سید عباس عراقچی نے چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں دونوں رہنماؤں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور دوطرفہ و علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

سید عباس عراقچی نے گفتگو کے دوران اپنے چینی ہم منصب کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایران اور چین اس معاہدے سے پیدا ہونے والے مواقع سے خصوصاً توانائی اور اقتصادی شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دے سکیں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے ایران اور چین کے درمیان موجود باہمی اعتماد کی بلند سطح اور دونوں ممالک کے تعلقات کی اسٹریٹجک اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے مذاکراتی عمل میں چین کی حمایت اور مفاہمتی یادداشت کی پشتیبانی پر بیجنگ کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے ماضی کے تجربات کے باعث امریکہ کے بارے میں ایران کے گہرے عدم اعتماد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں، بالخصوص تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے سے متعلق نکات، کے مکمل اور مؤثر نفاذ کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے مفاہمتی یادداشت کا خیر مقدم کرتے ہوئے دباؤ اور طاقت کے استعمال کی پالیسیوں کے مقابلے میں ایرانی حکومت اور عوام کے استقامت بھرے رویے کو سراہا۔ انہوں نے مسائل کے حل اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ایران کے ذمہ دارانہ اور سفارتی طرزِ عمل کی بھی تعریف کی۔

وانگ یی نے مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں پر مکمل اور درست عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چین اس معاہدے کے نفاذ میں سہولت، علاقائی روابط کے فروغ اور خطے کے ممالک کے درمیان موجود ابہامات اور چیلنجز کے حل کے لیے تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *