مسلمان عورت کا غیر مسلم مرد سے نکاح شرعاً ناجائز اور باطل ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

مسلمان عورت کا غیر مسلم مرد سے نکاح شرعاً ناجائز اور باطل ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

حیدرآباد، 18 جون (پریس ریلیز):لن

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس نے انسانی زندگی کے ہر شعبے کے لیے واضح اور حکیمانہ احکام عطا فرمائے ہیں۔ خاندانی نظام اور ازدواجی زندگی چونکہ معاشرے کی بنیاد ہیں، اس لیے شریعتِ مطہرہ نے نکاح کو محض ایک سماجی معاہدہ قرار نہیں دیا بلکہ اسے ایمان، عقیدہ اور دینی اقدار کے تحفظ کا مضبوط ذریعہ بنایا ہے۔ اسی بنا پر اسلام نے میاں بیوی کے تعلق کو ایسی بنیادوں پر قائم کرنے کا حکم دیا ہے جو دینی ہم آہنگی، روحانی سکون اور نسلوں کے ایمان و کردار کی حفاظت کی ضامن ہوں۔

اسی تناظر میں خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے عوامی سوالات کے جواب میں وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ فقہِ حنفی اور جمہور امت کے نزدیک مسلمان عورت کا کسی بھی غیر مسلم مرد، خواہ وہ اہلِ کتاب (یہودی یا عیسائی) ہی کیوں نہ ہو، سے نکاح شرعاً ناجائز، حرام اور باطل ہے۔ قرآنِ مجید نے اگرچہ مسلمان مردوں کو اہلِ کتاب عورتوں سے مخصوص شرائط کے ساتھ نکاح کی اجازت دی ہے، لیکن مسلمان عورت کے غیر مسلم مرد سے نکاح کے عدمِ جواز پر قرآنِ حکیم کی متعدد آیات صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سورۂ الممتحنہ میں اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا:

﴿لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ﴾

یعنی مومن عورتیں کافروں کے لیے حلال نہیں اور نہ ہی کافر ان کے لیے حلال ہیں۔ اسی طرح سورۂ بقرہ میں مسلمان عورتوں کا مشرک مردوں سے نکاح کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ ائمہ تفسیر بالخصوص امام محمد بن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کی تفسیر میں صراحت کی ہے کہ مومن عورتوں کا ہر قسم کے مشرک اور کافر مردوں سے نکاح حرام ہے۔

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے فرمایا کہ بعض لوگ قرآنِ مجید میں مسلمان عورت اور اہلِ کتاب مرد کے نکاح کے متعلق صریح اجازت نہ ہونے کو ’’سکوت‘‘ قرار دے کر جواز کا استدلال کرتے ہیں، حالانکہ یہ دعویٰ نصوصِ قرآنیہ اور اجماعِ امت کے خلاف ہے۔ جب قرآنِ کریم سورۂ بقرہ اور سورۂ الممتحنہ میں اس مسئلہ کا واضح حکم بیان کر چکا ہے تو اس کے بعد کسی قسم کی تاویل یا احتمالی رخصت کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

انہوں نے مزید فرمایا کہ فقہِ حنفی سمیت تمام معتبر فقہی مکاتبِ فکر کا اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ مسلمان عورت کا غیر مسلم مرد سے نکاح شرعاً معتبر نہیں ہوتا۔ مفسرین نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول اس روایت کا بھی ذکر کیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’ہم اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح کر سکتے ہیں، لیکن وہ ہماری عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے۔‘‘

انہوں نے واضح کیا کہ شریعتِ اسلامیہ کے یہ احکام بندگانِ خدا کے لیے سراپا رحمت اور حکمت پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد ایمان، عقیدہ اور خاندانی نظام کی حفاظت ہے۔ لہٰذا مسلمان عورت کے لیے کسی بھی غیر مسلم مرد سے نکاح جائز نہیں، خواہ وہ اہلِ کتاب ہو یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھتا ہو، جب تک کہ وہ صدقِ دل سے اسلام قبول نہ کر لے۔

آخر میں خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے ملتِ اسلامیہ کے نوجوانوں کو نہایت درد مندانہ انداز میں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آج ہمارے معاشرے میں بعض افسوس ناک واقعات سامنے آ رہے ہیں، جہاں بعض مسلم بچیاں حالات کی سنگینی، تاخیرِ نکاح، جہیز کی لعنت، بے جا رسم و رواج اور معاشرتی رکاوٹوں کے باعث غلط راستوں کی طرف مائل ہو رہی ہیں یا غیر مسلم افراد کے ساتھ ایسے تعلقات قائم کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں جو ان کے دین، خاندان اور مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ یقیناً اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ گناہ کا جواز پیدا ہو جاتا ہے، بلکہ یہ صورت حال پوری ملت کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

انہوں نے فرمایا کہ ہزاروں شریف، باحیا اور تعلیم یافتہ مسلم بچیاں صرف اس وجہ سے مناسب رشتوں سے محروم ہیں کہ ہمارے نوجوان اور ان کے خاندان جہیز، لین دین، فضول رسومات اور دنیاوی مطالبات کو نکاح پر مقدم کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً بہت سی بچیاں عمر کی ایک بڑی حد سے تجاوز کر جاتی ہیں اور نفسیاتی دباؤ، تنہائی اور مختلف فتنوں کا سامنا کرتی ہیں۔

مولانا موصوف نے نوجوانوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا:

“اے ملت کے نوجوانو! تمہاری اپنی بہنیں، بیٹیاں اور خاندان کی بچیاں تمہاری توجہ اور احساسِ ذمہ داری کی منتظر ہیں۔ جہیز کی لعنت، لین دین اور بے جا رسم و رواج کو چھوڑ دو۔ سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق آسان اور سادہ نکاح کو فروغ دو۔ اگر تم اپنے ہی معاشرے کی پاک دامن بچیوں کے لیے حلال راستوں کو مشکل بناؤ گے تو فتنہ پرور عناصر ان کی کمزوریوں اور جذبات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے، جس کے نتیجے میں ایسے افسوس ناک واقعات جنم لیں گے جو پوری ملت کے لیے باعثِ شرمندگی اور اضطراب بن جاتے ہیں۔”

انہوں نے مزید فرمایا کہ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ دین داری، اخلاق اور کردار کو ترجیح دیں، جہیز اور غیر اسلامی رسم و رواج کا مکمل بائیکاٹ کریں، اور ان بچیوں کے لیے سہارا بنیں جو ایک صالح مسلمان شریکِ حیات کی منتظر ہیں۔ اگر نکاح آسان کر دیا جائے اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زندہ کیا جائے تو ان شاء اللہ ہماری بیٹیاں عزت، وقار اور دینی ماحول میں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی گزار سکیں گی، اور معاشرہ بے شمار فتنوں اور المیوں سے محفوظ ہو جائے گا۔

اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو اپنی بیٹیوں کی عزت و عصمت کی حفاظت، نکاح کو آسان بنانے اور جہیز و دیگر معاشرتی برائیوں کے خاتمے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *