مرکزی وزیر سریش گوپی نے جمعرات کے روز اپنے بیان میں صاف طور پر کہہ دیا کہ گلوبل مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں لیکن ہندوستان میں فیول کی قیمت فوراً کم نہیں کی جا سکتی ہے۔
i
ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کا مثبت اثر فوری طور پر سامنے آنے لگا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں لگاتار کمی آ رہی ہے، جس سے دنیا بھر میں بڑھ رہی مہنگائی نے ’یو-ٹرن‘ لینا شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ ہندوستان میں فی الحال خام تیل کی قیمتوں میں تیز رفتار گراوٹ کا فائدہ دکھائی نہیں دینے والا۔ ایسا اس لیے کیونکہ مودی حکومت عوام کو فوری فائدہ پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتی۔
دراصل مرکزی حکومت کی طرف سے ایک بیان سامنے آیا ہے، جس سے پتہ چل رہا ہے کہ ملک میں پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں فوراً کم نہیں ہونے والی ہیں۔ مرکزی وزیر سریش گوپی نے جمعرات کو اپنے بیان میں صاف طور پر کہہ دیا کہ گلوبل مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں لیکن ہندوستان میں فیول کی قیمت فوراً کم نہیں کی جا سکتی ہے۔ مرکزی وزیر نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ پٹرول-ڈیزل کی قیمت طے کرنے میں کئی فیکٹر شامل ہوتے ہیں، جن میں سستا خام تیل ہندوستان پہنچنے میں لگنے والا وقت بھی شامل ہے۔
پٹرول، قدرتی گیس و سیاحت کے وزیر مملکت سریش گوپی نے حال ہی میں ایندھن کی قیمت میں ہوئے اضافہ پر اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ فی لیٹر تقریباً 3.94 روپے اضافہ کرنے کا اثر پڑا ہے، لیکن صرف گلوبل سطح پر خام تیل کی قیمت گھٹنے کی بنیاد پر اسے فوراً واپس نہیں لیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ ’’سستا خام تیل ہندوستان تک آبنائے ہرمز کے راستے پہنچتا ہے۔ وہاں جہازوں کی آمد و رفت زیادہ رہنے کے سبب اس میں وقت لگتا ہے، اس لیے حالات معمول پر آنے میں کچھ وقت لگے گا۔‘‘
سریش گوپی نے ایران و امریکہ جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فروری ماہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد تیل کمپنیاں بری طرح متاثر ہوئیں اور مرکزی حکومت نے کافی حد تک اس کا مالی بوجھ خود اٹھایا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اس اثر کو اپنے اوپر لینے کے سبب مرکزی حکومت کو 12 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ کسی بھی ریاست نے بڑھی ہوئی ایندھن قیمتوں پر کم ایکسائز ڈیوٹی لگا کر اپنے ریونیو میں کمی نہیں کی۔ مرکزی حکومت کو بھی چلنا ہے اور تیل کمپنیوں کو بھی ٹکے رہنا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ پر دستخط ہو چکا ہے۔ اس کے بعد آبنائے ہرمز کو کمرشیل جہازوں کے لیے کھولنے کا راستہ ہموار ہو گیا۔ دنیا کا تقریباً 20 فیصد خام تیل اسی سمندری راستہ سے گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امن معاہدہ ہوتے ہی خام تیل کی قیمتوں میں کافی گراوٹ آ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کے وقت خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل پہنچ گئی تھی، جو کہ آج تقریباً 80 ڈالر فی بیرل پر ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

