جیتو پٹواری نے اپنے خط میں کہا کہ ملک کی پہلی قبائلی خاتون صدر کی حیثیت سے دروپدی مرمو کی زندگی جدوجہد، خدمت اور آئینی اقدار سے وابستگی کی روشن مثال ہے، جو کروڑوں قبائلی باشندوں کے لیے باعث ترغیب ہے۔ انہوں نے لکھا کہ مدھیہ پردیش ملک کی سب سے بڑی قبائلی آبادی والی ریاست ہے، جہاں تقریباً ایک کروڑ ترپن لاکھ قبائلی باشندے رہتے ہیں، جو ریاست کی کل آبادی کا لگ بھگ اکیس فیصد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئین سازوں نے قبائلی سماج کے لیے خصوصی تحفظات اور سہولیات کا تصور پیش کیا تھا، لیکن اس کے باوجود جھابوا، علی راج پور، دھار، بڑوانی، کھرگون، منڈلا، ڈنڈوری، شہڈول، امریہ، انوپ پور، بیتول، چھندواڑہ، سیونی اور شیو پوری جیسے قبائلی اکثریتی اضلاع میں ترقی کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔
