امریکا و اسرائیل کے جنگی اہداف ناکام، ایران کے ساتھ معاہدہ اور ٹرمپ کی پسپائی

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف 40 روزہ جنگ بڑے اور دور رس اہداف کے ساتھ شروع کی گئی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے تل ابیب میں موجود اتحادیوں کو امید تھی کہ وسیع فوجی حملوں کے ذریعے خطے کی سیاسی و تزویراتی صورتحال کو اپنے حق میں تبدیل کیا جائے گا، ایران کی دفاعی و ڈیٹرنس صلاحیت کو کمزور کیا جائے گا اور تہران کو ان شرائط کو قبول کرنے پر مجبور کیا جائے گا جنہیں برسوں سے اس پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

جنگ کے دوران بعض مواقع پر ایران میں حکومت کی تبدیلی اور تہران کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے تک کی باتیں کی گئیں۔ تاہم جنگ کے خاتمے اور تہران و واشنگٹن کے درمیان معاہدے کے عمل کے آغاز کے بعد امریکی صدر کے حالیہ بیانات ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وائٹ ہاؤس اپنے ابتدائی اہداف اور مؤقف سے بتدریج پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوا ہے۔

ٹرمپ نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں میدان میں ناکامی کو میڈیا میں کامیابی کے دعوے سے تبدیل کرنے کی کوشش کی اور ایران کے ساتھ معاہدے کو امریکا کی بڑی کامیابی قرار دیا، لیکن ان کے بیانات کے درمیان ایسے اعترافات بھی موجود تھے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا اور جنگ کے مزید سنگین نتائج سے بچنے کے لیے اسے نئی زمینی حقائق کو تسلیم کرنا پڑا۔

ایران میں سیاسی نظام کی تبدیلی کے منصوبے سے پسپائی

شاید ٹرمپ کے بیانات کا سب سے اہم حصہ اس موضوع سے متعلق ہے جسے جنگ کے دوران مغربی حکام، ذرائع ابلاغ اور پالیسی حلقوں کی جانب سے بارہا اٹھایا جاتا رہا، یعنی ایران کے سیاسی نظام میں تبدیلی۔ امریکی صدر نے ایک قابل غور بیان میں کہا کہ میں نے کبھی بھی ایران میں حکومت کی تبدیلی کا دعوی نہیں کیا۔ حالانکہ جنگ کے ابتدائی دنوں سے ہی متعدد مغربی تجزیہ کار اور یہاں تک کہ امریکی حکام بھی ایران کے سیاسی نظام کے قریب الوقوع خاتمے کی بات کر رہے تھے۔ وائٹ ہاؤس کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا اداروں نے بھی بارہا یہ مؤقف دہرایا کہ فوجی اور اقتصادی دباؤ ایران کے سیاسی ڈھانچے میں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ ٹرمپ بھی مدد راستے میں ہے جیسے جملے دہرا کر عملا نظام کی تبدیلی کے منصوبے کو آگے بڑھا رہے تھے۔

تاہم اب ٹرمپ نہ صرف اس دعوے سے فاصلے پر دکھائی دیتے ہیں بلکہ محض اس جملے پر اکتفا کرتے ہیں کہ ایک لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ حکومت میں تبدیلی آچکی ہے۔ یہ جملہ ایک بڑے منصوبے کی ناکامی کے بعد محض ظاہری تاثر برقرار رکھنے کی کوشش سے زیادہ کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ لہجے میں یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگ کے بنیادی اہداف میں سے ایک نہ صرف حاصل نہیں ہوسکا بلکہ واشنگٹن اب اس کا کھلے لفظوں میں ذکر کرنے سے بھی گریز کر رہا ہے۔

آبنائے ہرمز میں ایران کی طاقت کا اعتراف

ٹرمپ کے بیانات کا ایک اور قابل توجہ پہلو عالمی توانائی کی مساوات میں ایران کے فیصلہ کن کردار کا بالواسطہ اعتراف تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم کسی معاہدے تک نہ پہنچتے تو آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھلتی۔

یہ جملہ کئی اعتبار سے اہم ہے۔ پہلی بات یہ کہ ٹرمپ عملاً اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ جنگ کے تسلسل سے عالمی توانائی کی ترسیل کو سنگین بحران کا سامنا ہو سکتا تھا۔ دوسری بات یہ کہ ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو کم تر ثابت کرنے کے ابتدائی دعووں کے برعکس، امریکی صدر اب اس امر کا اعتراف کر رہے ہیں کہ تہران کے ساتھ معاہدے کے بغیر آبنائے ہرمز کا بحران ختم کرنا ممکن نہیں تھا۔

درحقیقت، جس چیز کو ٹرمپ اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں، اسے ایک دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ امریکہ اپنی فوجی طاقت کے ذریعے سمندری آمدورفت اور توانائی کی سلامتی کو یقینی بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور بالآخر اسے دوبارہ مذاکرات کی راہ اختیار کرنا پڑی۔

فوجی دھمکیوں سے معاشی تباہی کے خدشے تک

ٹرمپ نے اپنے بیان کے ایک اور حصے میں معاہدے کی وجہ ایک معاشی تباہی سے بچنا قرار دی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یہ معاہدہ اس لیے کیا کیونکہ میں کسی معاشی تباہی کا مشاہدہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ یہ بیان امریکی حکومت کے ابتدائی مؤقف سے واضح طور پر متصادم ہے۔ جنگ کے آغاز میں وائٹ ہاؤس کا دعوی تھا کہ فوجی اور اقتصادی دباؤ کی امریکہ کو کوئی قابل ذکر قیمت ادا نہیں کرنا پڑے گی اور ایران مختصر مدت میں پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔

تاہم اب امریکی صدر خود اعتراف کر رہے ہیں کہ جنگ کا تسلسل امریکہ اور عالمی معیشت دونوں کو ایک سنگین بحران سے دوچار کرسکتا تھا۔ ایسے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ابتدائی اندازوں کے برعکس، جنگ کی قیمت واشنگٹن کے لیے توقعات سے کہیں زیادہ ثابت ہوئی۔

ایران کا پیسہ واپس کرنا ہوگا

شاید ٹرمپ کے بیانات کا سب سے غیر معمولی حصہ ایران کے منجمد اثاثوں سے متعلق تھا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ہم نے ایران کی بہت بڑی رقم اپنے پاس رکھی ہوئی ہے۔ یہ رقم ہماری نہیں بلکہ ان کی ہے، اور اگر ہم اسے واپس نہیں کریں گے تو پھر کوئی بھی ڈالر پر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔

ان بیانات کو حالیہ برسوں میں واشنگٹن کی اہم ترین سیاسی پسپائیوں میں سے ایک قرار دیا جا سکتا ہے۔ امریکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف ممالک کے منجمد اثاثوں کو دباؤ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے، لیکن اب اسی ملک کا صدر کھلے الفاظ میں ایران کے اثاثے واپس کرنے کی ضرورت پر زور دے رہا ہے۔

یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ خود ٹرمپ کے نزدیک بھی ایران کے اثاثوں کی ضبطی اور انہیں منجمد رکھنے کی پالیسی امریکہ کی مالی ساکھ اور ڈالر کی عالمی حیثیت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ایران کے بارے میں لہجے میں تبدیلی

ٹرمپ نے اپنے بیان کے ایک اور حصے میں کہا کہ ایران کی نئی قیادت زیادہ ہوشیار ہے۔ یہ جملہ بھی اس جارحانہ اور تحقیر آمیز زبان کے برعکس ہے جو جنگ کے دوران امریکی حکام ایران کے خلاف استعمال کرتے رہے تھے۔ درحقیقت، امریکی صدر جو پہلے دھمکیوں اور دباؤ کی پالیسی کی بات کرتے تھے، اب تعامل اور معاہدے کے لیے فضا ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ متعدد تجزیہ کار اس تبدیلی کو جنگ کے بعد پیدا ہونے والی نئی حقیقتوں کو تسلیم کرنے کی علامت قرار دیتے ہیں۔

اسی طرح ٹرمپ کا شاید سب سے اہم اعتراف اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے کہا کہ اگر ہم ایران پر بمباری جاری رکھتے تو بحری جہازوں کی آمدورفت ممکن نہ رہتی۔ انہوں نے یہ انتباہ بھی دیا کہ امریکہ کے تیل کے ذخائر میں کمی آ رہی ہے۔

یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ واشنگٹن اپنی ابتدائی توقعات کے برعکس سنگین حدود اور مشکلات سے دوچار ہوچکا تھا۔ جو جنگ امریکی طاقت کے مظاہرے کے لیے شروع کی گئی تھی، وہ بالآخر اسی طاقت کی محدودیتوں کو بے نقاب کر گئی۔ اسی وجہ سے ٹرمپ کو بحران کی شدت میں اضافے سے بچنے کے لیے معاہدے کا دفاع کرنا پڑا۔

نتیجہ

ان تمام پسپائیوں کے باوجود ٹرمپ اب بھی اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدہ امریکہ کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ امریکہ نے جو کچھ چاہا تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ حاصل کر لیا ہے۔

تاہم ان کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ جب امریکی صدر آبنائے ہرمز کو کھولنے، معاشی بحران سے بچنے، ایران کے اثاثے واپس کرنے اور حکومت کی تبدیلی کے دعوے سے دستبردار ہونے کے لیے معاہدے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں تو اس صورت حال کو جنگ کے ابتدائی اہداف کے مطابق قرار دینا مشکل ہو جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ چالیس روزہ جنگ بڑے وعدوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی؛ خطے کی نئی صف بندی سے لے کر ایران کو تزویراتی طور پر کمزور کرنے تک۔ لیکن جنگ کے اختتام نے ظاہر کر دیا کہ یہ اہداف حاصل نہیں ہوسکے اور واشنگٹن کو بحران کے سیاسی، اقتصادی اور سلامتی سے متعلق نتائج کو قابو میں رکھنے کے لیے معاہدے کی جانب بڑھنا پڑا۔

اسی لیے ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو ایک ایسی ناکامی کے نتائج کو سنبھالنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے جس کے اثرات نہ صرف خطے میں بلکہ امریکہ کی داخلی سیاست اور عالمی حیثیت میں بھی نمایاں ہوں گے۔ جو جنگ امریکی طاقت کے اظہار کے لیے شروع کی گئی تھی، وہ بالآخر اس مقام پر پہنچ گئی جہاں اسی ملک کے صدر کو ایران کی رقم واپس کرنے، معاہدے کی ضرورت اور جنگ کے تسلسل کے خطرات کا اعتراف کرنا پڑا؛ ایسی پیش رفتیں جنہیں بہت سے مبصرین جنگ کے ابتدائی اہداف سے تدریجی پسپائی کے سوا کچھ اور نہیں سمجھتے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *