ٹینکر ٹریکرز کی رپورٹ کے مطابق نیشنل ایرانی ٹینکر کمپنی کے 2 وی ایل سی سی سپر ٹینکرز ڈیونا (9569695) اور ہیرو2 (9362073) تیل لے کر روانہ ہوئے ہیں، جن میں 3.8 ملین بیرل ایرانی خام تیل بھرا ہوا ہے۔


i
مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم ہو گئی ہے اور امریکہ و ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت جہاں ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے پر رضامند ہو گیا، وہیں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دنیا کی تیل و گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس اہم سمندری راستے پر امریکی بحریہ کی ناکہ بندی ختم کر دی ہے۔ اس کے اثرات بھی ظاہر ہونے لگے ہیں اور تقریباً 2 ماہ کی ناکہ بندی کے بعد اب ایرانی خام تیل سے بھرے جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے روانہ ہونے لگے ہیں۔
ٹینکر ٹریکرز کی رپورٹ کے مطابق نیشنل ایرانی ٹینکر کمپنی کے 2 وی ایل سی سی سپر ٹینکرز ڈیونا (9569695) اور ہیرو2 (9362073) تیل لے کر روانہ ہوئے ہیں، جن میں 3.8 ملین بیرل ایرانی خام تیل بھرا ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اب یہ سپر ٹینکرز امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کے دائرے سے باہر نکل چکے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ 2 ماہ کے دوران یہ پہلا ایسا برآمدی کھیپ ہے جس کی تصدیق 15 جون 2026 کے اے آئی ایس ڈاٹا اور سیٹلائٹ تصاویر سے ہوئی ہے۔ اس کے بعد ایک تیسرا سویز میکس ٹینکر بھی ایک ملین بیرل تیل لے کر روانہ ہوا۔ یعنی مجموعی طور پر 4.8 ملین بیرل ایرانی خام تیل سے بھرے جہاز امن کے ماحول میں اپنی منزلوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ رپورٹ میں شائع کیے گئے نقشہ میں یہ تیل بردار جہاز اور اسٹریم بحیرۂ عرب میں خلیج عمان کے قریب دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ وہ ناکہ بندی والی حد عبور کر رہے ہیں جو اپریل 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران قائم کی گئی تھی۔
نقشہ میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ نیشنل ایرانی ٹینکر کمپنی کا اسٹریم (9569633) پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون (ای ای زیڈ) سے ناکہ بندی والی حد کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ جہاز گزشتہ 7 ہفتوں سے ایران میں داخلے کے انتظار میں رکا ہوا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے بعد دنیا بھر میں اطمینان کی فضا پیدا ہوئی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ خام تیل کی قیمتیں ہیں، جو ڈونالڈ ٹرمپ کے اس معاہدے کے اعلان کے بعد مسلسل گر رہی ہیں۔ طویل عرصہ تک 100 سے 110 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہنے والا برینٹ خام تیل اب 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ چکا ہے۔ بین الاقوامی بازار میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 79.02 ڈالر فی بیرل تک گر گئی ہے، جو گزشتہ 3 ماہ کی کم ترین سطح ہے۔ دوسری جانب ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 76.15 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ مربان خام تیل کی قیمت بھی 7 فیصد سے زیادہ گر کر 71 ڈالر فی بیرل رہ گئی ہے۔ تیل سستا ہونے سے مہنگائی کے خطرات میں بھی کمی آئی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

