درخواست گزار اشونی اپادھیائے نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ معاشی طور پر انتہائی خوشحال افراد بھی درج فہرست قبائل کے لیے مختص ٹیکس چھوٹ اور دیگر مراعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جو مساوات کے آئینی اصول کے خلاف ہے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ شمال مشرقی خطے کے بعض قبائلی خاندانوں کے پاس سینکڑوں کروڑ روپے کے اثاثے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ افراد کالجوں، تجارتی اداروں اور دیگر کاروباری منصوبوں کے مالک ہیں اور سالانہ کروڑوں روپے کماتے ہیں، اس کے باوجود وہ انکم ٹیکس سے استثنا حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کو مراعات دینے کے بجائے صرف معاشی طور پر کمزور اور مستحق قبائلیوں کو فائدہ ملنا چاہیے۔
