نئے ہجری سال پر خانہ کعبہ کا نیا غلاف، کسوہ کی تبدیلی مکمل — روح پرور منظر دنیا بھر میں توجہ کا مرکز

جدہ –  نئے ہجری سال کے آغاز کے موقع پر مسجد الحرام میں خانہ کعبہ کا مقدس غلاف (کسوہ) روایتی انداز میں تبدیل کر دیا گیا۔ غلاف کی تبدیلی کا آغاز پیر کی شام خصوصی تیاریاں شروع ہونے کے بعد کیا گیا، جبکہ منگل کی صبح اس روحانی اور تاریخی عمل کو مکمل کر لیا گیا۔

 

سعودی خبر رساں ادارے الاخباریہ کے مطابق نیا غلاف کسوہ فیکٹری سے ایک منظم کانوائے کی صورت میں مسجد الحرام منتقل کیا گیا، جہاں خصوصی ٹیموں نے اسے انتہائی ترتیب اور احتیاط کے ساتھ نصب کیا۔

 

دنیا بھر کے مسلمان ہر سال ہجری سال کے آغاز پر اس روح پرور منظر کے منتظر رہتے ہیں، جو صرف ایک بار سالانہ دیکھا جاتا ہے۔ اس موقع پر سعودی ماہرین اور ہنرمند اپنے فنی مہارت اور منظم منصوبہ بندی کے ذریعے ایک انتہائی مقدس ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔

 

کسوہ کی تبدیلی کا عمل پرانے غلاف کو اتارنے سے شروع ہوتا ہے، جس دوران سونے کے دھاگوں سے مزین قرآنی آیات کے طغرے نہایت احتیاط سے الگ کیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں خانہ کعبہ کے دروازے کا پردہ، جس کی لمبائی 6.35 میٹر اور چوڑائی 3.33 میٹر ہے، اتارا جاتا ہے۔ اس کے بعد غلاف کے مختلف حصوں کو مرحلہ وار کعبے کی چھت اور اطراف سے نیچے منتقل کر کے نیا غلاف نصب کیا جاتا ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق کسوہ کی تیاری میں تقریباً 825 کلوگرام خام ریشم، 120 کلوگرام سونے سے ملمع شدہ چاندی کی تار، 60 کلوگرام خالص چاندی اور 410 کلوگرام خام روئی استعمال کی جاتی ہے۔ اس عظیم کام کے لیے 150 سعودی کاریگروں نے تقریباً 11 ماہ تک محنت کی، جنہوں نے 47 بڑے ریشمی ٹکڑے تیار کیے۔

 

نئے غلاف پر قرآنِ پاک کی 30 آیات چاندی کے دھاگے سے کشیدہ کی گئی ہیں، جن پر 24 قیراط سونے کی تہہ چڑھائی گئی ہے۔ مجموعی طور پر غلافِ کعبہ کا وزن تقریباً 1410 کلوگرام ہے، جو اس عظیم الشان اور تاریخی عمل کی وسعت اور نزاکت کو ظاہر کرتا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *