دسویں اور انٹر کے اصل سرٹیفکیٹس واپس نہ کرنے پر حیدراباد میں ایک انجینیرنگ کالج کو ایک لاکھ روپے کا جرمانہ

حیدراباد :  کورس کے دوران تعلیم چھوڑنے والے ایک طالب علم کے اصل تعلیمی سرٹیفکیٹس اپنے پاس رکھ کر اضافی فیس ادا کرنے کی شرط عائد کرنے والے ملاریڈی انجینئرنگ کالج کے خلاف حیدرآباد ضلع کنزیومر کمیشن-1 نے سخت فیصلہ سناتے ہوئے جرمانہ عائد کیا ہے۔ کمیشن نے کالج انتظامیہ کو طالب علم کو ایک لاکھ روپے بطور معاوضہ اور 10 ہزار روپے عدالتی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق نامپلی کے رہنے والے راکیش ورما کے بیٹے نے اکتوبر 2021 میں میسما گوڑہ واقع ملاریڈی انجینئرنگ کالج میں بی ٹیک (آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور مشین لرننگ) کورس میں داخلہ لیا تھا۔ طالب علم نے پہلے سال کی ٹیوشن فیس کے طور پر 80 ہزار روپے جمع کروائے تھے۔ داخلے کے وقت کالج انتظامیہ نے دسویں جماعت اور انٹرمیڈیٹ کے اصل سرٹیفکیٹس اپنے پاس رکھ لئے تھے۔

 

بعد ازاں خاندانی اور مالی مشکلات کے باعث طالب علم پہلے سمسٹر کے بعد اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکا۔ اس کے بعد طالب علم اور اس کے والد نے اصل سرٹیفکیٹس واپس لینے کے لئے متعدد بار کالج کے چکر لگائے، تاہم کالج انتظامیہ نے مزید 80 ہزار روپے ادا کرنے کی شرط عائد کرتے ہوئے سرٹیفکیٹس واپس دینے سے انکار کر دیا۔

 

شکایت کے مطابق سرٹیفکیٹس نہ ملنے کے سبب طالب علم کے چار قیمتی تعلیمی سال ضائع ہوگئے۔ کالج کی جانب سے ہراسانی اور غیر قانونی رویہ کے خلاف متاثرہ طالب علم نے گزشتہ سال ستمبر میں کنزیومر کمیشن سے رجوع کیا۔

 

کمیشن کی جانب سے نوٹس جاری ہونے کے بعد کالج انتظامیہ نے طالب علم کے اصل سرٹیفکیٹس واپس کرتے ہوئے کیس خارج کرنے کی درخواست کی، تاہم کمیشن نے واضح کیا کہ کالج کے رویہ سے طالب علم شدید ذہنی اذیت کا شکار ہوا۔ کمیشن نے کالج کو 45 دنوں کے اندر ایک لاکھ 10 ہزار روپے ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مقررہ مدت میں رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں 9 فیصد سالانہ سود کے ساتھ ادائیگی کرنا ہوگی۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *