تلنگانہ میں ووٹر لسث کی خصوصی نظر ثانی مهم کے سلسلے میں آج حیدرآباد کے سٹی کنونشن سینٹر میں کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اس اجلاس میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی، پارٹی کے فلور لیڈر جناب اکبر الدین اویسی، علمائے کرام، ایم ایل ایز اور دیگر ذمہ داران نے شرکت کی۔
اجلاس میں SIR عمل کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ عوام میں اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کی جائے۔
شرکاء نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس عمل میں بھرپور حصہ لیں، اپنے دستاویزات مکمل اور درست رکھیں تاکہ کسی بھی حقیقی ووٹر کا نام انتخابی فہرست سے خارج نہ ہو۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر اویسی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے مقرر کردہ 12 دستاویزات کو حتمی اور محدود فہرست کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومتِ تلنگانہ سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے جاری کردہ سرکاری دستاویزات کے بارے میں الیکشن کمیشن کو آگاہ کرے تاکہ انہیں بھی تصدیق کے لئے قابلِ قبول قرار دیا جا سکے۔
حیدرآباد کے رکنِ پارلیمنٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے کہا ہے کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے تحت انتخابی فہرستوں کی تازہ کاری کے عمل میں صرف پانچ بچوں تک کی تفصیلات درج کرنے کی حد پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس قسم کی کوئی بھی شرط یا حد کسی بھی قانون کے تحت موجود نہیں ہے جو زیادہ بچوں والے شہریوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرتی ہو۔ اویسی نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس عمل کے دوران اپنی معلومات درست طریقے سے فراہم کریں۔
انہوں نے وزیر اعظم پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شہری کے خاندان کی ساخت یا بچوں کی تعداد کو ووٹنگ کے حق سے جوڑنا درست نہیں ہے۔ ان کے مطابق بھارت میں ہر اہل شہری کو ووٹ کا بنیادی اور آئینی حق حاصل ہے۔
بیرسٹر اویسی نے کہا کہ ملک میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جو چھ بچوں والے یا بڑے خاندانوں والے شہریوں کو ووٹ ڈالنے سے روکتا ہو، اور ووٹ کا حق ہر اہل شہری کا آئینی حق ہے۔

