آئی اے ای اے تکنیکی رپورٹس کو سیاسی ہتھیار نہ بنائے، ایران کا انتباہ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی اور اس کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایجنسی کو اپنی تکنیکی رپورٹس کو سیاسی دباؤ کے آلے میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں غریب آبادی نے کہا کہ آئی اے ای اے کی حالیہ رپورٹ اور رافیل گروسی کے وہ بیانات جواب کے متقاضی ہیں، جن میں ایران کی جوہری تنصیبات تک رسائی، یورینیم کے ذخائر اور جوہری پروگرام سے متعلق معلومات کے تسلسل میں خلل کا ذکر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کسی خلا میں پیدا نہیں ہوئی بلکہ ایران کی نگرانی میں موجود جوہری تنصیبات کو امریکہ اور اسرائیل کے فوجی حملوں کا نشانہ بنایا گیا، تاہم آئی اے ای اے کے سربراہ نے ان حملوں کی کبھی مذمت نہیں کی۔ حملوں کے اصل سبب کو نظر انداز کرکے انہی حملوں کے نتائج کو ایران کے خلاف استعمال کرنا غیر منصفانہ ہے۔

غریب آبادی نے رافیل گروسی سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں کے خلاف واضح قانونی موقف اختیار کریں کیونکہ یہ نہ صرف ایران کی خودمختاری بلکہ جوہری سلامتی، حفاظتی نگرانی کے نظام اور عدم پھیلاؤ کے عالمی ڈھانچے کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے امیدوار کی حیثیت سے گروسی کس طرح آزادانہ قیادت کا دعویٰ کرسکتے ہیں جبکہ ان کا رویہ سیاسی اور مغربی ممالک کے زیر اثر دکھائی دیتا ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے یورینیم کی 60 فیصد افزودگی سے متعلق خدشات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں افزودگی کی کسی مخصوص سطح پر پابندی عائد نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق قانونی معیار یہ ہے کہ جوہری مواد کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے، جبکہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن اور اس کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے ایک طرف فوجی حملوں کے اثرات کو اپنی رپورٹس میں شامل کرے، حملہ آوروں کی ذمہ داری کو نظر انداز کرے اور دوسری طرف ایران سے ان حملوں کے تکنیکی اور سیاسی نتائج کی قیمت ادا کرنے کا مطالبہ کرے، یہ قابل قبول نہیں۔ اگر ایجنسی سفارتی حل کا حصہ بننا چاہتی ہے تو اسے تکنیکی رپورٹنگ کو سیاسی دباؤ میں تبدیل کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔

انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ محفوظ جوہری تنصیبات پر بمباری کرکے معائنوں کے لیے درکار رسائی اور سلامتی کو تباہ کرنا اور پھر انہی حملوں کے نتائج کو ایران کے خلاف ابہام پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنا کسی صورت درست نہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *