
مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: انصار اللہ یمن کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے خطے میں کسی بھی سطح کی کشیدگی کا مقابلہ کرنے کی آمادگی کا اعلان کرتے ہوئے امریکہ، اسرائیل اور دیگر علاقائی فریقوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ یمن اب مغربی ایشیا کی اسٹریٹجک ڈیٹرنس میں ایک مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران ہونے والی پیش رفت سے ظاہر ہوا ہے کہ یمن صرف داخلی جنگ اور بیرونی دباؤ کا شکار ملک نہیں رہا بلکہ مزاحمتی محور کی ڈیٹرنس کا ایک اہم ستون بن چکا ہے۔ آبنائے باب المندب پر اس کے اثر و رسوخ نے نہ صرف علاقائی سلامتی کے توازن کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی تجارت اور بڑی طاقتوں کی اقتصادی و سکیورٹی حکمت عملیوں پر بھی نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔
گریٹر اسرائیل؛ خطے کے نقشے کی تبدیلی کا منصوبہ
انصار اللہ کے رہنما نے اپنی تقریر میں اس منصوبے کا ذکر کیا جسے انہوں نے گریٹر اسرائیلِ اور مشرق وسطی کے نقشے کو تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا۔ غزہ جنگ کے بعد بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ صہیونی حکومت اور اس کے مغربی حامی خطے میں ایک نئی سیکورٹی زون قائم کرنا چاہتے ہیں، جس کا بنیادی مقصد آزاد اور خودمختار کرداروں کو محدود کرنا اور مغربی ایشیا کے مستقبل کے معاملات سے مزاحمتی قوتوں کی صلاحیت کو خارج کرنا ہے۔
ایسے حالات میں یمن خود کو محض اپنے قومی مفادات کا محافظ نہیں سمجھتا بلکہ ایک ایسے علاقائی محاذ کا حصہ قرار دیتا ہے جو غزہ سے لے کر لبنان، عراق اور خطے کے دیگر مقامات تک پھیلا ہوا ہے۔ اسی تناظر میں عبدالملک الحوثی مقاومتی بلاک کے ساتھ مسلسل رابطے اور ہم آہنگی کی بات کرتے ہیں اور خبردار کرتے ہیں کہ اس محاذ کے خلاف کسی بھی ہمہ گیر جنگ کا متقابل جواب دیا جائے گا۔
باب المندب کی جغرافیائی و تزویراتی اہمیت
ان انتباہات کو زیادہ وزن صرف یمن کی میزائل اور ڈرون صلاحیتیں نہیں بخش رہیں بلکہ اس ملک کا منفرد جغرافیائی محل وقوع بھی اس میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ باب المندب عالمی توانائی اور تجارت کے حساس ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔
باب المندب ایک نہایت اہم تزویراتی آبی گزرگاہ ہے جو بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن اور بحرِ ہند سے ملاتی ہے۔ یہ آبنائے اپنے تنگ ترین مقام پر تقریبا 30 کلومیٹر چوڑی ہے اور جزیرہ نمائے عرب میں واقع یمن کو افریقہ کے سینگ میں واقع جبوتی اور اریٹیریا سے جدا کرتی ہے۔ اس کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ بہت سے ماہرین اسے آبنائے ہرمز اور نہرِ سویز کے ساتھ عالمی تجارت کی تین اہم ترین شاہراہوں میں شمار کرتے ہیں۔
بین الاقوامی اندازوں کے مطابق روزانہ 60 لاکھ سے زائد بیرل تیل اور تیل سے متعلق مصنوعات اس راستے سے گزرتی ہیں۔ اسی طرح عالمی بحری تجارت کا تقریبا 12 فیصد اور دنیا کی کنٹینر ٹریفک کا قریب 30 فیصد براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس آبی گزرگاہ کی سلامتی سے وابستہ ہے۔ ہر سال ہزاروں تجارتی جہاز، تیل بردار بحری کشتیاں اور فوجی بحری بیڑے باب المندب سے گزرتے ہیں۔
اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ جہازوں کو افریقہ کے جنوبی سرے کے راستے سفر پر مجبور کرسکتی ہے۔ اس متبادل راستے سے بحری سفر میں تقریباً 6 سے 10 ہزار کلومیٹر کا اضافہ ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باب المندب کا کنٹرول اور اس کی سلامتی صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل موضوع ہے۔
اس آبی گزرگاہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ اور تحقیقی ادارے متعدد بار عالمی بحری سلامتی میں یمن کے فیصلہ کن کردار کے بارے میں خبردار کرچکے ہیں۔ باب المندب سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل اور عالمی تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرنے کے باعث اس خطے میں کسی بھی قسم کی بدامنی فوری طور پر عالمی توانائی منڈیوں، بحری نقل و حمل کے اخراجات اور بین الاقوامی سپلائی چین کو متاثر کرسکتی ہے۔
یمن؛ میزائل اور ڈرونز سے بالاتر ایک تزویراتی قوت
اسی لیے عام تصور کے برعکس یمن کی طاقت صرف اس کے میزائلوں یا ڈرونز کی تعداد تک محدود نہیں۔ اس ملک کی سب سے بڑی تزویراتی برتری عالمی معیشت کی ایک حساس ترین شہ رگ پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جس نے گزشتہ مہینوں کے دوران متعدد بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو اپنے بحری راستے تبدیل کرنے اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ کرنے پر مجبور کیا۔
درحقیقت اگر غزہ عوامی مزاحمت کی علامت بن چکا ہے تو یمن جغرافیائی محلِ وقوع کو تزویراتی طاقت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ وہ ملک جو برسوں تک محاصرے کا شکار رہا، آج عالمی سلامتی کے بعض اہم ترین معالات پر اثر ڈالنے کی پوزیشن میں آچکا ہے۔
امریکہ کے نقطۂ نظر سے بھی صورتحال ماضی کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے۔ واشنگٹن گزشتہ چند برسوں سے بیک وقت کئی بحرانوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے؛ یوکرین جنگ سے لے کر مشرقی ایشیا میں چین کے ساتھ مسابقت اور مغربی ایشیا میں اسرائیل کی حمایت تک۔ ایسے ماحول میں خطے میں ایک نئے اور وسیع محاذ کا کھل جانا امریکہ کے لیے بھاری سیاسی، عسکری اور اقتصادی اخراجات کا باعث بن سکتا ہے۔
عبدالملک الحوثی کی جانب سے واشنگٹن پر مقاومتی بلاک کو ایک ہمہ گیر تصادم کی طرف دھکیلنے کی کوشش کا الزام بھی اسی تناظر میں قابل فہم ہے۔ گزشتہ تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے فوجی دباؤ بڑھایا، مزاحمتی قوتوں نے بھی جوابی اقدامات کے ذریعے یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ کسی بھی حملے یا جارحانہ اقدام کی قیمت فریقِ مقابل کو بھاری پڑ سکتی ہے۔
اسی زاویے سے انصار اللہ کے رہنما کے بیانات کو ڈیٹرنس کی ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے؛ ایسی حکمت عملی جس کا مقصد واشنگٹن اور تل ابیب کو کسی غلط اندازے یا مہم جوئی سے باز رکھنا ہے۔ سلامتی کے نظریات میں ڈیٹرنس اسی وقت مؤثر سمجھی جاتی ہے جب مخالف فریق اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ فوجی اقدام کی قیمت اس سے حاصل ہونے والے ممکنہ فوائد سے کہیں زیادہ ہوگی۔ یمن آج یہی پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
علاقائی ممالک کے لیے انتباہ
عبدالملک الحوثی کے خطاب کا ایک اور اہم پہلو خطے کے ممالک کو دیا گیا وہ واضح انتباہ تھا جس میں انہوں نے اسرائیل کی جانب سے لڑی جانے والی کسی پراکسی جنگ میں شامل ہونے سے خبردار کیا۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ انصار اللہ کی قیادت کا خیال ہے کہ بعض علاقائی قوتیں مزاحمتی محاذ کو محدود کرنے کے امریکی منصوبوں کے تحت میدان میں اترسکتی ہیں۔ تاہم گزشتہ برسوں کے تجربات سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ خطے کی بہت سی حکومتیں کسی بھی ہمہ گیر جنگ کے ممکنہ نتائج سے بخوبی آگاہ ہیں اور خود کو ایک وسیع تنازع کا حصہ بنانے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مغربی ایشیا اس وقت ایک نہایت حساس مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایک جانب اسرائیل اپنی سلامتی سے متعلق بحرانوں کو فوجی دباؤ اور علاقائی توازن میں تبدیلی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب مقاومتی بلاک ڈیٹرنس کو برقرار رکھنے اور مضبوط بنانے کے ذریعے ایسے اہداف کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس تمام صورتحال میں یمن کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ وہ ملک جسے کبھی صرف ایک انسانی اور سلامتی کے بحران کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا، آج خطے کی جغرافیائی و سیاسی معاملات کا ایک فیصلہ کن فریق بن چکا ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف مغربی ایشیا میں طاقت کے توازن میں آنے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہے بلکہ ایک نئی حقیقت کو بھی نمایاں کرتی ہے؛ ایسی حقیقت جس کے مطابق اب غیر ریاستی قوتوں اور مزاحمتی تحریکوں کے کردار کو نظر انداز کرکے خطے کی سلامتی کا تجزیہ نہیں کیا جاسکتا۔
حاصل سخن
عبدالملک الحوثی کے بیانات کا بنیادی پیغام واضح ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے مطلوبہ علاقائی نظم کو مسلط کرنے یا جنگ کے دائرے کو وسیع کرنے کی ہر کوشش کو بھرپور ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا، اور اس ردعمل کا ایک اہم مرکز یمن ہوگا۔ وہ ملک جو آج مغربی ایشیا کی سلامتی اور تزویراتی معاملات کے حاشیے پر نہیں بلکہ ان کے مرکز میں موجود ہے اور کسی بھی نئے تصادم کی صورت میں نتائج کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسی لیے موجودہ حالات کا سب سے اہم نکتہ شاید یہ ہے کہ یمن اب صرف ایک جنگی محاذ نہیں رہا بلکہ علاقائی ڈیٹرنس کے بنیادی ستونوں میں شامل ہوچکا ہے۔ ایسا ستون جو کسی بھی نئی جنگ کے آغاز سے متعلق اندازوں کو مزید پیچیدہ بناسکتا ہے اور اس کے ممکنہ اخراجات کو غیر متوقع حد تک بڑھا سکتا ہے۔
