
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسپیس ایکس کا سیٹلائٹ انٹرنیٹ نظام اسٹارلنک ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرتا رہا، جبکہ ایران کے اندر اسمگل کیے گئے ہزاروں ٹرمینلز کو بھی مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
رائٹرز کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، جو پینٹاگون کی دستاویزات اور متعدد ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی ہے، جون 2025 اور فروری 2026 کے دوران ایران کے خلاف ہونے والی امریکی فوجی کارروائیوں میں اسٹارلنک اور اس کے فوجی ورژن اسٹارشیلڈ نے مواصلاتی اور آپریشنل معاونت فراہم کی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ نظام مختلف ڈرون پلیٹ فارمز، سمندری بغیر پائلٹ جہازوں اور جدید خودکش ڈرونز کے لیے حقیقی وقت میں رابطے اور کمانڈ و کنٹرول کی سہولت مہیا کر رہا تھا۔
تحقیق میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ 2022 کے بعد سے ایران میں دسیوں ہزار اسٹارلنک ٹرمینلز غیر قانونی طور پر داخل کیے گئے، جنہیں بظاہر انٹرنیٹ تک رسائی کے لیے فراہم کیا گیا، لیکن رپورٹ کے مطابق ان میں سے بعض نظام امریکی فوجی نیٹ ورک کے ساتھ بھی منسلک تھے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت نے ان سرگرمیوں کی سرپرستی کی اور انہیں انٹرنیٹ کی آزادی کے منصوبوں کے تحت پیش کیا، جبکہ ناقدین کا موقف ہے کہ ان ٹیکنالوجیز کا استعمال صرف شہری مقاصد تک محدود نہیں رہا۔
رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسٹارلنک اور اس کے فوجی ورژن کی دوہری نوعیت نے اسے خطے میں جاری کشیدگی اور جدید جنگی حکمت عملیوں کا ایک اہم عنصر بنا دیا ہے۔
