
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار یہ تجویز دے چکے ہیں کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو بیرون ملک منتقل کیا جائے، تاہم اس منصوبے پر عملدرآمد تکنیکی اعتبار سے نہایت پیچیدہ ہے۔
گروسی نے ایک بار پھر زور دیا کہ اس مواد کی منتقلی آپریشنل اور فنی لحاظ سے انتہائی دشوار مرحلہ ہے، لیکن اس امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے بتایا کہ زیرِ غور تجاویز میں ایک آپشن یہ بھی شامل ہے کہ افزودہ یورینیم کی افزودگی کی سطح کو کم کر دیا جائے کہ اس کی حساسیت کم ہوجائے۔
آئی اے ای اے کے سربراہ کے مطابق ان تمام امور پر مختلف فریقین کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، اگرچہ ایجنسی براہِ راست ان مذاکرات کا حصہ نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ رابطوں میں ہیں تاکہ اگر کوئی ممکنہ معاہدہ طے پاتا ہے تو اسے عملی اور قابل نفاذ بنانے میں معاونت فراہم کی جاسکے۔
