
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عالمی جوہری توانائی ادارے کے سربراہ رافائل گروسی نے کہا ہے کہ تہران اور عالمی جوہری ادارے کے درمیان تعاون میں موجودہ رکاوٹوں کے باوجود مذاکرات اور رابطے کا دروازہ بند نہیں ہوا۔
برطانوی دارالحکومت لندن کے دورے کے دوران ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ایران اور عالمی جوہری توانائی ادارے کے تعلقات بالآخر دوبارہ بحال ہو جائیں گے۔
گروسی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے معاملات میں اپنے وسیع تجربے کی بنیاد پر وہ امید رکھتے ہیں کہ اس تجربے کو مثبت انداز میں استعمال کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کو مزید جامع بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے گزشتہ سال اپنے پرامن جوہری مراکز پر اسرائیلی حملوں کے جواز کے حوالے سے ان پر تنقید کی تھی، تاہم اس کے باوجود انہیں یقین ہے کہ دونوں فریق دوبارہ مکمل تعاون کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔
رافائل گروسی کے مطابق اس وقت دونوں جانب کم سے کم سطح پر رابطے اور معلومات کا تبادلہ جاری ہے، لیکن یہ تعاون بہت محدود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی موقف یہ ہے کہ جب تک کشیدگی اور تنازع جاری ہے، مکمل تعاون کی بحالی کے لیے مناسب ماحول موجود نہیں۔
اقوام متحدہ کے آئندہ سیکریٹری جنرل کے منصب کے امیدوار گروسی نے عالمی تنازعات میں اقوام متحدہ کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے مختلف بحرانوں، بالخصوص ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگی کارروائیوں کے دوران اقوام متحدہ کا کردار بہت محدود دکھائی دیا۔
گروسی نے مزید کہا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کا معاہدہ عالمی امن و سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے، تاہم اس وقت اسے مختلف خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے۔
