شہید رہبر کے افکار کو یکجا کرنا ضروری تھا

مہر خبررساں ایجنسی، دینی ڈیسک: توقیر کھرل پاکستان کے معروف صحافی،کالم نگار اور مصنف ہیں۔شہید آیت العظمیٰ کی شہادت کے اڑھائی ماہ بعد نئی کتاب شہید رہبر منظر عام پر آئی ہے۔کتاب لکھنے کا کیا مقصد ہے اور کتاب میں کونسے اہم موضوعات کو شامل کیا گیا۔تفصیلی انٹرویو پیش خدمت ہے۔

مہر نیوز: شہید آیت اللہ خامنہ ای سے متعلق کتاب لکھنے کا خیال کیسے آیا؟

رہبرِ شہیدکے افکار کی جمع آوری کا ارادہ 2برس قبل کیا تھا، اور اس دوران کچھ تراجم کو مرتب بھی کیا، تاہم ان کی شہادت کے بعد یہ سعادت نصیب ہوئی کہ اس کام کو مکمل شکل دی جا سکے اور یہ کاوش پایہ تکمیل تک پہنچے۔ بلاشبہ، شہید رہبر کے افکار کو یکجا کرنا جتنا ضروری تھا، اتنا ہی دشوار بھی۔ محدود وسائل اور اپنی بساط کے مطابق ہم نے اس بوجھ کو اٹھانے کی حتی المقدور کوشش کی کہ قارئین کے سامنے ایک معیاری اور مستند مجموعہ نگارشات پیش کیا جا سکے۔خداوندِ متعال کی بارگاہ میں سجدہ شکر بجالاتا ہوں کہ اس نے مجھے اس سعادت سے نوازا کہ میں اس اہم اور بابرکت کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں ان تمام احباب کا بھی تہہِ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے مواد کی جمع آوری، ترتیب و تدوین اور اس کتاب کی تکمیل میں کسی نہ کسی صورت میں معاونت فرمائی۔ 

مہر نیوز: جب آپ نے رہبر معظم کی شہادت کی خبر سنی تو کیا کیفیت تھی؟

کسی عظیم اور اثر آفریں شخصیت سے نظریاتی و قلبی وابستگی ایک ایسا تعلق ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ مزید گہرا اور مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای سے میری وابستگی عقیدت تک محدود نہیں، بلکہ یہ دو دہائیوں پر محیط ایک فکری و روحانی رشتہ ہے، جو اب میری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔اس تعلق کی ابتدا ایک طالبِ دل کی سی سادہ آرزو سے ہوئی، جب دیگر نوجوانوں کی طرح میں بھی نمازِ شب میں ان کی زیارت کی تمنا لیے دعاگو رہتا تھا۔ ربِ کریم نے اس آرزو کو شرفِ قبولیت بخشا اور مجھے دو مرتبہ قریب سے زیارت کا موقع عطا ہوا۔سنہ 2011 میں تہران میں پہلی بار رہبرِ معظم کی زیارت کی روداد کو قلمبند کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس کے بعد ان کی تصاویر اور یادگار لمحات کو محفوظ کرنے کا سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ ان کی تقاریر، خطبات اور افکار میری روزمرہ زندگی کا حصہ بن گئے۔ جون 2005 سے فروری 2026 تک کا عرصہ ایسا گزرا کہ ان کی کوئی تقریر، خطاب یا منظر ایسا نہ تھا جو میری سماعت اور نظر سے اوجھل رہا ہو۔پھر وہ لمحہ بھی آیا جب وقت جیسے تھم سا گیا۔ یکم مارچ، 11 رمضان المبارک کی سحر، ایک ایسی خبر لے کر آئی جس نے دل کو مغموم اور روح کو لرزا دیا۔ یہ یقین کرنا دشوار تھا کہ رہبرِ معظم اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ اس سانحے نے پوری امت کو سوگوار کر دیا۔ ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر دل غم سے بوجھل۔اسی کیفیت میں قلم نے بے اختیار یہ الفاظ رقم کیے:میرا مرشد امر ہو گیا! اِنّا للہ و اِنّا اِلَیہِ راجعون۔”۔ تاریخ انہیں ان جری اور بے خوف رہنماؤں میں شمار کرے گی جنہوں نے عالمی سامراج کے سامنے استقامت اور جرات کی ایک نئی مثال قائم کی۔

مہر نیوز: کیا اس سے قبل بھی آپ کی کتابیں ہیں؟

یہ حقیقت ہے کہ انسان کی کامیابی میں اس کے بزرگوں کی دعاؤں اور تربیت کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ اپنے والدین کی شفقت، دعاؤں اور دی گئی اعلیٰ تربیت کا ہی نتیجہ ہے کہ میں اس مقام تک پہنچ سکا کہ شہید قاسم سلیمانی، نجف سے کربلا کے سفرِ اربعین اور اب رہبرِ معظم کی حیات و افکار پر لکھے گئے الفاظ کو محفوظ کرنے کی توفیق حاصل ہوئی۔

شہید سردار قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد ‘گمنامی سے دِلوں کی حُکمرانی تک ‘تک کتاب کے تین ایڈیشن شائع ہوئے۔تہران میں منعقد ہ ایک تقریب میں دس بہترین کتابوں میں سے ایک قرار دیا گیا۔بعد ازاں اربعین ملین مارچ کے بارے سفر نامہ نجف سے کربلا کے دو ایڈیشن شائع ہوئی جس کی تقریب پذیرائی کربلائے معلیٰ حرم امام حسین علیہ السلام میں منعقد ہوئی یہ میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔اور اب رہبر عظیم الشان کے بارے کتاب بھی پاکستان بھر میں خریدی جارہی ہے یہ یقینا اہلِ پاکستان کی شہید رہبر سے خصوصی محبت کا نتیجہ ہے۔

مہر نیوز: کتاب کا نام شہید رہبر کیوں رکھا؟

امام سید روح اللہ موسوی الخمینیؒ کی رحلت کے بعد آیت اللہ خامنہ ای نے انہیں “رہبر کبیر”کے لقب سے یاد کیا اور یہی لقب رائج ہے۔آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے شہید آیت اللہ خامنہ ای کو شہادت کے بعد اپنے بیانات میں “رہبر شہید” اور” شہید رہبر” کے لقب سے یاد کیا ہے۔کتاب کا عنوان” شہید رہبر “اسی لقب کے پیش نظر رکھا گیا ہے۔

مہر نیوز: کتاب میں کونسے اہم ابواب ہیں؟

 کتاب“شہید رہبر”دراصل ملتِ اسلامیہ کے اس عظیم مجاہد کی حیات، افکار اور یاد کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔ اس تصنیف کے ابتدائی ابواب میں رہبرِ شہید کے“طالبعلم سے رہبریت تک”کے سفر کو نہایت ترتیب اور تسلسل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، جس میں ان کی سوانحِ حیات، علمی و فکری ارتقا، لشکرِ خمینیؒ میں شمولیت، دورِ صدارت، تاریخی دورہ پاکستان اور چھتیس سالہ دورِ رہبریت کے اہم واقعات کو شامل کیا گیا ہے۔ کتاب کے ایک اہم حصے میں“افکارِ شہید خامنہ ای”کے عنوان کے تحت ان کے خطبات، خطوط اور اہم گفتگو کو محفوظ کیا گیا ہے، تاکہ ان کی فکری جہتیں اور نظریاتی بصیرت براہِ راست قارئین تک پہنچ سکے۔ مزید برآں، اس تصنیف میں ان عالمی، قومی، سیاسی اور تنظیمی شخصیات کی ملاقاتوں کا احوال بھی شامل کیا گیا ہے جنہیں رہبرِ شہیدسے بالمشافہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ ان ملاقاتوں کے بیانات نہ صرف تاریخی اہمیت کے حامل ہیں بلکہ رہبرِ معظم کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔بین الاقوامی علامہ اقبالؒ کانفرنس میں آیت اللہ خامنہ ای کے تاریخی خطاب اور ان کے وحدت آفریں فتویٰ کو بھی اس کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے، جو امتِ مسلمہ کے اتحاد اور فکری ہم آہنگی کی روشن علامت ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی ممتاز علمی و ادبی شخصیات کے خصوصی مضامین اور قومی اخبارات میں شائع ہونے والے کالم، تجزیات اور اداریے بھی اس مجموعے میں شامل کیے گئے ہیں، تاکہ ایک جامع اور ہمہ جہت تصویر قاری کے سامنے آسکے۔ کتاب کے آخری حصے میں معروف شعرائے کرام کے وہ کلام شامل کیے گئے ہیں جو عقیدت اور محبت کے جذبات سے سرشار ہیں اور رہبرِ شہید کی یاد کو ادبی پیرائے میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں 

مہر نیوز: رہبر معظم کی بے مثال قربانی دنیا بھر کے مسلمانوں بالخصوص پاکستان کے عوا م پر کیا اثرات مرتب کئے ہیں؟

تاریخِ اسلام میں شہید آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے موقع پر جس بے نظیر اور بے مثال اسلامی اتحاد کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس عظیم اور تاریخ ساز لمحے میں ملتِ پاکستان بھی کسی سے پیچھے نہ رہی، بلکہ اپنے مخصوص جذبہ ایمانی کے ساتھ صفِ اول میں نظر آئی۔ رہبرِ معظم کی مظلومانہ شہادت نے نہ صرف دلوں کو غمگین کیا بلکہ پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ امتِ مسلمہ کے مختلف طبقات، مسالک اور خطوں میں بکھرے ہوئے مسلمان ایک مرکز پر مجتمع ہوتے دکھائی دیے، اور یوں قرآنِ حکیم کے اس ابدی پیغام —“واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا”— پر عملی طور پر عمل کی ایک درخشاں مثال قائم ہوئی۔پاکستان میں شیعہ سنی مسلمانوں نے شہید رہبر کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔پاکستان بھر میں سامراج مخالف ریلیاں نکالی گئی اور شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے کانفرنسز سیمیناراور تقریبات کا انعقا د کیا۔حتیٰ کہ شوبز سے وابستہ شخصیات نے نمناک آنکھوں سے شہید کی قربانی کو بے مثال قرار دیا۔اہل پاکستان کی شہید رہبر سے محبت یک طرفہ نہیں بلکہ رہبر معظم بھی پاکستان کے عوام سے بے پناہ محبت کرتے تھے میری یہ کتاب بھی بطور پاکستانی شہید رہبر سے محبت عشق اور عقیدت کا ایک اظہار ہے۔13جون کو پاکستان کے شہر لاہور میں ایک عظیم الشان اجتماع کا انعقاد ہونے جارہا ہے جس میں پاکستان بھر سے لاکھوں عوام آیت اللہ خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے جمع ہوں گے۔۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *