تیسری بات، سمندری راستے کھلے رہنے چاہئیں۔ ڈووال نے خاص طور پر آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان سمندری راستوں سے تجارت کو بلا تعطل جاری رکھنا بہت ضروری ہے۔ یہ دنیا کے سب سے اہم تجارتی راستے ہیں، تیل اور دیگر ضروری سامان ایشیا اور دنیا تک پہنچاتے ہیں۔ ہرمز، خاص طور پر مغربی ایشیا میں تنازعات کی وجہ سے گزشتہ 3 ماہ سے عملی طور پر بند ہے، جس سے عالمی سپلائی چین اور تیل کی قیمتوں پر اثر پڑا ہے۔
’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرا معیار نہیں چلے گا‘، ماسکو میں بین الاقوامی کانفرنس سے اجیت ڈووال کا خطاب
