
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری نے روسی دارالحکومت ماسکو میں منعقدہ چودھویں بین الاقوامی سلامتی فورم کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افزودہ یورینیم کے ذخائر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہیں۔
اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ساٹھ فیصد افزودہ چار سو کلوگرام یورینیم کے مستقبل سے متعلق سوال کے جواب میں کہا تھا کہ جوہری معاملات میں ایران کا مؤقف بالکل واضح ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کا رکن ہے اور اس حیثیت سے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق رکھتا ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران نے اپنے افزودہ یورینیم سے متعلق مؤقف کو بھی واضح طور پر بیان کیا ہے۔ اگر اس مرحلے پر ان معاملات کی تفصیلات میں داخل ہو جائے تو مذاکرات کو نتیجے تک پہنچانا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ ماضی میں بھی یہی اختلافات مذاکرات کی ناکامی کا سبب بنے تھے۔
آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران اور امریکہ کے درمیان کسی ممکنہ اتفاق کے سوال پر علی باقری نے کہا کہ جب تک تمام مسائل پر اتفاق نہ ہو جائے، اس وقت تک کسی معاملے کو طے شدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایران اور عمان جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک نئے طریقۂ کار پر مشترکہ مشاورت کر رہے ہیں۔
