
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے معاون برائے خارجہ پالیسی و بین الاقوامی سلامتی علی باقری نے ماسکو میں منعقدہ چودھویں بین الاقوامی سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر عراق کے قومی سلامتی مشیر قاسم الاعرجی سے ملاقات کی۔
ملاقات میں علی باقری نے بغداد حکومت پر زور دیا کہ عراق کی سرزمین اور فضائی حدود کو ایران کے خلاف خطرات کا ذریعہ بننے سے روکا جائے۔ ان خطرات کی جڑیں ختم کرنا ضروری ہے اور ایران اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکہ اور کردستان کے بعض دہشت گرد عناصر ایران کے خلاف جنگ کو وسعت دینے کی سازش کر رہے ہیں۔ ایران اپنی قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کرے گا اور ایسے اقدامات کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔
علی باقری نے خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے کردار کو عدم استحکام کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی گروہ ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کا ذریعہ رہے ہیں۔
اس موقع پر قاسم الاعرجی نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عراق ایران کے ساتھ مل کر ان خطرات کے بنیادی حل کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عراق کسی بھی ایسی سرگرمی کی مخالفت کرتا ہے جو ایران کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔ الاعرجی نے ایران اور عراق کے اسٹریٹجک تعلقات کو خطے کے لیے ایک مثبت مثال قرار دیا۔
عراقی قومی سلامتی مشیر نے جنگ کے دوران علی لاریجانی کی شہادت پر تعزیت بھی پیش کی اور کہا کہ آج دنیا جان چکی ہے کہ ایران اس جنگ میں کامیاب رہا ہے۔
واضح رہے کہ علی باقری منگل کے روز اعلی سطحی بین الاقوامی سکیورٹی کانفرنس میں شرکت کے لیے ماسکو پہنچے تھے۔
