جنگ کے بعد کا ایران پہلے سے بالکل مختلف اور طاقتور ہے، رکن پارلیمنٹ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ اب کا ایران جنگ سے پہلے کے ایران کے مقابلے میں دفاعی اور سیاسی لحاظ سے بالکل مختلف اور زیادہ مضبوط ہے۔

انہوں نے دشمن کے ڈرونز کی نقل و حرکت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایرانی افواج فضائی حدود کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں مسلح افواج کو فوری جواب دینے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ دشمن کی ذرا سی بھی غلطی کا جواب ایسا دیا جائے گا کہ اسے ہمیشہ کے لیے پچھتاوا ہوگا۔

ابراہیم عزیزی نے کہاکہ امریکہ اس جنگ کو صرف تین دن میں ختم کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، لیکن جب وہ 40 روز تک اس دلدل میں پھنسا رہا تو اسے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ذریعے مذاکرات اور جنگ بندی کی پیشکش کرنی پڑی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت زیر بحث 14 نکات دراصل ایران کی جانب سے پیش کردہ تجاویز ہیں، کیونکہ امریکہ سمجھ چکا ہے کہ وہ اس میدان میں فوجی طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ایران اب بھی امریکہ پر مکمل عدم اعتماد کی پالیسی پر قائم ہے اور جب تک امریکہ عملی اقدامات کے ذریعے اعتماد بحال نہیں کرتا، کسی معاہدے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے ایران کی جانب سے رکھے گئے پانچ بنیادی مطالبات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاہدے سے پہلے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:

1. لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ اور اس بات کی ضمانت کہ ایسی جارحیت دوبارہ نہیں ہوگی۔

2. سمندری قزاقی اور بحری محاصرے کا مکمل خاتمہ۔

3. آبنائے ہرمز پر ایران کے وضع کردہ سکیورٹی انتظامات اور پروٹوکولز کا نفاذ۔

4. تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کی معطلی۔

5. ایران کے منجمد کیے گئے تمام مالی اثاثوں کی فوری واپسی۔

ابراہیم عزیزی نے کہا کہ اگر امریکہ یہ پانچ اقدامات اٹھاتا ہے تو ایران 30 سے 60 روز کے ٹائم فریم میں پابندیوں کی تفصیلات پر بات کرے گا، بصورتِ دیگر مذاکرات کا عمل آگے نہیں بڑھے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ 40 روزہ جنگ نے ثابت کر دیا کہ امریکہ کے پاس اب ایران کے سامنے کھڑے ہونے کی سکت نہیں ہے اور اسے ایرانی قوم کے مطالبات تسلیم کرنے ہی ہوں گے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *