مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ ایران جنگ اور اس کے بعد ہونے والی جنگ بندی کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور وہاں اماراتی صدر محمد بن زاید سے ملاقات کی۔
عربی 21 کے مطابق نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا کہ اس خفیہ ملاقات کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت اور معیاری سطح پر بڑی بہتری آئی۔
اسرائیلی چینل 12 کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکانات زیر بحث تھے، جبکہ امارات کو بھی حالیہ جنگ کے دوران حملوں کا سامنا رہا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے ساتھ ہی اسرائیلی داخلی سلامتی ادارے شاباک کے سربراہ ڈیوڈ زینی نے بھی ایک غیر معمولی دورہ کرتے ہوئے امارات کا سفر کیا۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزارت جنگ کے ڈائریکٹر جنرل امیر برعام کی قیادت میں اسرائیلی سکیورٹی حکام نے ابوظہبی میں اماراتی وزارتِ دفاع کے عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد ایران کے خلاف ممکنہ اسرائیلی اور امریکی کارروائیوں کے سلسلے میں سکیورٹی اور عسکری رابطہ کاری بتایا گیا۔
دوسری جانب نتن یاہو کے سابق چیف آف اسٹاف زیو آگمون نے دعوی کیا کہ محمد بن زاید نے نیتن یاہو کا غیر معمولی استقبال کیا اور خود اپنی گاڑی میں انہیں ایئرپورٹ سے صدارتی محل لے کر گئے۔
انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کا ابوظہبی میں بادشاہوں کی طرح استقبال کیا گیا، جبکہ محمد بن زاید نے اپنے اہل خانہ اور اہم اماراتی شخصیات کے ہمراہ اسرائیلی وفد کا خیر مقدم بھی کیا۔
