دہلی کی فضائی صورت حال پر اجے ماکن نے جاری کیے اعداد و شمار، سلفر ڈائی آکسائیڈ میں اضافے پر حکومت سے تین مطالبے

اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم 2.5 میں کمی حقیقی بہتری نہیں بلکہ موسمی اثر ہے، جبکہ سلفر ڈائی آکسائیڈ میں اضافہ تشویش ناک ہے

<div class="paragraphs"><p>اجے ماکن / تصویر: قومی آواز، ویپن</p></div><div class="paragraphs"><p>اجے ماکن / تصویر: قومی آواز، ویپن</p></div>

i

user

google_preferred_badge

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی کے تازہ اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے حکومت پر سوال اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ راجدھانی کی ہوا میں بظاہر نظر آنے والی بہتری کو حقیقی تبدیلی نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعداد و شمار اور ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دہلی میں فضائی آلودگی کے کئی اشاریے اب بھی تشویش ناک سطح پر موجود ہیں۔

اجے ماکن نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ 14 مئی 2026 کو دہلی میں پی ایم 2.5 کی اوسط سطح 48 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 36 فیصد کم ہے، لیکن یہ کمی مستقل یا بنیادی بہتری کا نتیجہ نہیں بلکہ موسمی حالات کا اثر معلوم ہوتی ہے۔ ان کے مطابق دہلی کے تمام 45 مانیٹرنگ اسٹیشن اب بھی عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ حد 15 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے اوپر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ آلودہ مقام مندر مارگ اسٹیشن رہا، جہاں پی ایم 2.5 کی سطح 95 مائیکروگرام فی مکعب میٹر درج کی گئی، جو عالمی ادارۂ صحت کی حد سے تقریباً 6.3 گنا زیادہ ہے۔ ان کے مطابق بعض مقامات پر پی ایم 10 کی سطح بھی 282 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی، جو مقررہ عالمی معیار سے کئی گنا زیادہ ہے۔

اجے ماکن نے اس بار خاص طور پر سلفر ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں اضافے کو تشویش کا باعث قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں سلفر ڈائی آکسائیڈ گزشتہ سال کے مقابلے میں 12 فیصد بڑھا ہے، جبکہ 31 میں سے 21 نگرانی مراکز پر صورت حال مزید خراب ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ایک اسٹیشن پر اس گیس کی مقدار میں 213 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اضافہ گھریلو ایندھن سے زیادہ ڈیزل جنریٹروں اور صنعتی ذرائع کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

اپنی ویڈیو میں انہوں نے ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فضائی آلودگی دہلی کے شہریوں کی اوسط عمر پر بھی اثر ڈال رہی ہے۔ ان کے مطابق یونیورسٹی آف شکاگو کے فضائی معیار زندگی اشاریے کے اندازے کے تحت اس نوعیت کی آلودگی شہریوں کی اوسط زندگی میں تقریباً 10 سال تک کمی کا سبب بن سکتی ہے۔

اجے ماکن نے حکومت کے سامنے تین مانگیں بھی رکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلفر ڈائی آکسائیڈ کے متاثرہ مقامات پر فوری جانچ کی جائے، ہر نگرانی مرکز کا حقیقی وقت کا ڈیٹا عوام کے لیے دستیاب کیا جائے اور عالمی ادارۂ صحت کے فضائی معیار کو قانونی معیار کا درجہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سانس لینا بنیادی حق ہے، کوئی سہولت نہیں۔


[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *