سترہ سالہ صحافتی سفر — “صدائے حسین” کی جدوجہد
سترہ برسوں سے “صدائے حسین” اردو روزنامہ اور انگلش ویکلی نے ہمیشہ وقت سے آگے سوچنے اور قومی شعور کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ سفر آسان نہیں تھا، بلکہ مشکلات، تنقید، بے توجہی اور مالی دباؤ کے درمیان مسلسل جدوجہد کا نام رہا۔ مگر اس کے باوجود یہ کارواں کبھی رُکا نہیں، کیونکہ اس کے پیچھے صرف ایک اخبار نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک احساسِ ذمہ داری اور قوم کی ترجمانی کا جذبہ موجود تھا۔
ہم نے ہمیشہ یہ محسوس کیا کہ قوم کی آواز صرف بڑے سرمایہ دار یا طاقتور طبقے ہی نہیں اٹھا سکتے، بلکہ ایک آزاد فکر رکھنے والا قلم بھی معاشرے کی رہنمائی کرسکتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ محنت اور خلوص کے باوجود وہ تعاون نہیں ملا جس کی ایک قومی و صحافتی تحریک کو ضرورت ہوتی ہے۔ سرمایہ دار طبقہ ہمیشہ فائدہ اور تشہیر کا طلبگار رہا، جبکہ دانشوروں اور اہلِ ثروت نے بھی اس مشن کو وہ اہمیت نہ دی جس کا یہ مستحق تھا۔
اکثر یہ احساس دلایا گیا کہ گویا قوم کی خدمت صرف ڈاکٹر، پروفیسر یا خطیب ہی کرسکتے ہیں، جبکہ ایک اخبار، ایک قلم اور ایک صحافی کی آواز کو کم تر سمجھا گیا۔ حالانکہ صحافت کسی بھی قوم کی فکری تعمیر، شعور کی بیداری اور تاریخ کے تحفظ کا سب سے اہم ذریعہ ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے کئی حلقے اخبار کی خامیاں تلاش کرتے رہے، مگر اس ادارے کی بقا اور مضبوطی کے لیے عملی تعاون کم ہی سامنے آیا۔
مذہبی طبقہ زیادہ تر خطابت اور تقاریر تک محدود رہا، لیکن صحافت، تحقیق، تحریر اور فکری تعمیر کو اتنی اہمیت نہ دی گئی۔ بعض افراد صرف اپنی تصاویر اور تشہیر کے خواہش مند رہے، مگر ادارے کے استحکام اور قومی خدمت کے لیے سنجیدہ تعاون نہ کرسکے۔ اس تمام صورتحال کے باوجود “صدائے حسین” کا یہ قافلہ نہ رُکا اور نہ جھکا۔
تاہم عام لوگوں نے ہمیشہ محبت سے نوازا، اپنی حمایت اور اعتماد کا اظہار کیا، ہماری بات پر یقین کیا اور ہر موقع پر عزت افزائی فرمائی مالی مدد بھی کی ، جس کے لیے ہم دل کی گہرائیوں سے ان کے مشکور ہیں۔ یہی عوامی محبت اور اعتماد ہمارے حوصلے کی اصل طاقت بنی اور اسی نے اس مشن کو زندہ رکھا۔
دوسری جانب کچھ لوگ، جن میں بعض نام نہاد مولوی بھی شامل تھے، ہماری مقبولیت اور عوامی پذیرائی سے حسد کا شکار ہوکر مخالفت پر اُتر آئے۔ ہمیں جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی کوشش کی گئی، ہماری کردار کشی کی گئی اور ہمیں رسوا کرنے کی سازشیں کی گئیں، مگر وقت نے ثابت کردیا کہ سچائی کو دبایا نہیں جاسکتا۔ جنہوں نے ظلم، بہتان اور ناانصافی کا راستہ اختیار کیا، وہ خود ہی ذلت اور رسوائی کا شکار ہوئے۔
یہ بھی افسوسناک حقیقت ہے کہ کئی این جی اوز اور ادارے ویلفیئر اور ایجوکیشن کے نام پر کروڑوں کے فنڈز حاصل کرتے رہے، مگر آج تک اپنی آڈٹ رپورٹس اور مالی تفصیلات قوم کے سامنے پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ عوام کے اعتماد اور عطیات کا تقاضہ شفافیت اور جوابدہی ہے، کیونکہ جو ادارے قوم کے نام پر فنڈز لیتے ہیں، ان پر قوم کو جواب دینا بھی فرض ہے۔
اس تمام صورتحال کے باوجود “صدائے حسین” نے ہمیشہ عزت، خودداری اور آزادیِ فکر کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا۔ ہم نے کبھی طاقتور طبقات کے مفادات کی صحافت نہیں کی، بلکہ مظلوموں، محروموں اور عام لوگوں کی آواز بننے کی کوشش کی۔ یہی ہمارا عزم تھا، یہی ہماری شناخت ہے، اور ان شاء اللہ یہی مشن آئندہ بھی جاری رہے گا۔
یہ سب اس نام کی برکت، اہلِ بیتؑ سے عقیدت، اور حق و حریت کے راستے پر چلنے کے عزم کا نتیجہ ہے کہ آج بھی یہ سفر جاری ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں، مشکلات کتنی ہی کیوں نہ ہوں، “صدائے حسین” اپنی ذمہ داری نبھاتا رہے گا۔ چاہے اردو روزنامہ ہو یا انگلش ویکلی، یہ ادارہ ہمیشہ قوم کی ترجمانی کرتا رہے گا، مظلوم کی آواز بنے گا، اور حق و سچ کے پیغام کو آگے بڑھاتا رہے گا۔
ان شاء اللہ یہ چراغ آئندہ بھی روشن رہے گا، کیونکہ یہ صرف ایک اخبار نہیں بلکہ ایک فکر، ایک تحریک اور ایک امانت ہے۔
