وی ڈی ستیسن ہوں گے کیرلم کے نئے وزیر اعلیٰ، کئی میٹنگوں کے بعد کانگریس نے لگائی مہر

کیرلم کے وزیر اعلیٰ کی ریس میں کے سی وینوگوپال، رمیش چنیتھالا اور وی ڈی ستیسن کا نام شامل تھا۔ کانگریس کے سرکردہ لیڈران کی میٹنگوں اور مقامی لیڈران سے صلاح و مشورہ کے بعد ستیسن کے نام پر مہر لگی۔

<div class="paragraphs"><p>وی ڈی ستیسن، تصویر آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>وی ڈی ستیسن، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

i

user

google_preferred_badge

کیرلم میں وزیر اعلیٰ کے نام پر جاری تذبذب والی حالت بالآخر ختم ہو گئی ہے۔ کانگریس نے جمعرات کو وی ڈی ستیسن کے نام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست کے وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ ستیسن کیرلم کے پراوور سے رکن اسمبلی ہیں اور وزیر اعلیٰ کی ریس میں کے سی وینوگوپال و رمیش چنیتھالا کے ساتھ ان کا نام بھی شامل تھا۔ کانگریس کے سرکردہ لیڈران کی میٹنگوں اور مقامی لیڈران سے صلاح و مشورہ کے بعد ستیسن کے نام پر مہر لگی۔ کانگریس جنرل سکریٹری دیپا داس منشی نے ان کے نام کا اعلان کیا۔

قابل ذکر ہے کہ کیرلم اسمبلی انتخاب کے نتائج 4 مئی کو سامنے آئے تھے۔ کیرلم میں کانگریس اتحاد نے شاندار فتح حاصل کی، اور اس طرح ایل ڈی ایف کی 10 سالہ حکومت کا اختتام ہو گیا۔ کانگریس کو 63 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ سی پی آئی ایم کو 26، آئی یو ایم ایل کو 22، سی پی آئی کو 8، کے ای سی کو 7، آر ایس پی کو 3 سیٹیں ملی ہیں۔ یو ڈی ایف کو واضح اکثریت ملنے کے بعد حکومت تشکیل دینے کی سرگرمیاں شروع ہوئیں۔ تقریباً 10 دنوں تک اس بات پر غور و خوض ہوتا رہا کہ وزیر اعلیٰ کون ہوگا، اور آج وی ڈی ستیسن کے نام پر مہر لگنے کے ساتھ ہی یہ معاملہ بھی حل ہو گیا۔

کیرلم میں کانگریس کی قیادت والے یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) نے 140 رکنی اسمبلی میں 102 سیٹیں جیت کر شاندار واپسی کی ہے۔ اس فتح میں وی ڈی ستیسن کے کردار کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ پراوور اسمبلی حلقہ سے 6 بار رکن اسمبلی رہے ہں۔ انھوں نے کیرلم میں کانگریس کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 1990 کی دہائی میں طلبا سیاست سے انھوں نے کیریئر کا آغاز کیا۔ وہ کیرالہ اسٹوڈنٹس یونین اور یوتھ کانگریس کے رکن بھی رہے۔ ستیسن کی ریاستی کانگریس پر گرفت بھی بہت مضبوط ہے۔ وہ ایک جارح مقرر بھی ہیں اور 26-2021 تک وہ کیرلم اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر بھی رہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *