
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے غیر معقول مطالبات، اشتعال انگیز بیانات اور نیک نیتی کی کمی جنگ کے خاتمے اور کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
ناروے کے نائب وزیر خارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز سے متصل ملک ہونے کے ناطے بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر اس آبی گذرگاہ کے انتظامات سے متعلق نئے ضوابط پر مشاورت کر رہا ہے۔
انہوں نے مذاکراتی عمل کے حوالے سے کہا کہ واشنگٹن کا رویہ حد سے زیادہ مطالبات، دھمکی آمیز زبان اور اخلاص کی کمی پر مبنی ہے، جس کی وجہ سے کسی پائیدار معاہدے تک پہنچنا مشکل ہو گیا ہے اور یہی عوامل موجودہ تنازع کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ناروے کے نائب وزیر خارجہ آندریاس کراوک نے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ناروے سفارت کاری کے فروغ، بحری سلامتی سے متعلق مشاورت اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔
