ایلات پر ڈرون حملے کا اسرائیلی دعوی، خطے میں نئی کشیدگی کا خدشہ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں دعوی کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے مشرق کی سمت سے آنے والے ایک ڈرون کو ایلات کے علاقے میں روک کر تباہ کر دیا۔

اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے کہا کہ ڈرون کے اصل مقام کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ڈرون عراق، یمن یا ایران سے داغا گیا ہو۔

صہیونی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ بندی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایلات کے علاقے میں کسی ڈرون کو روکنے کا دعوی کیا گیا ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی امور کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے انہیں ایران کے خلاف ناکام جنگ میں دھکیلنے پر شدید مایوس ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ اب تہران کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات کی تفصیلات تل ابیب کو فراہم نہیں کر رہے، جس پر نیتن یاہو اور ان کی حکومت سخت غصے کا شکار ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ لبنان میں کشیدگی بڑھانا، عراق میں فوجی سرگرمیوں کی خبریں پھیلانا اور مقبوضہ علاقوں پر ڈرون حملوں کے دعوے کرنا دراصل اسرائیل کی ایسی کوششیں ہیں جن کا مقصد مذاکرات کو سبوتاژ کرنا اور امریکہ کو دوبارہ ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلنا ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اگر امریکہ ایک بار پھر اس جنگ میں داخل ہوا تو اس کے واشنگٹن کے لیے نہایت تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *