
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کمانڈروں اور مزاحمتی مجاہدین کے نام ایک پیغام جاری کیا ہے۔
اپنے پیغام میں مجاہدین کو مخاطب قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمہارے ڈرون زمین کو اپنی گرفت میں لیتے ہیں اور صہیونی قابضین کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ تمہارے یہی ڈرون ظالموں اور شرپسندوں کے دلوں میں خوف پیدا کرتے ہیں۔ تم مرتے نہیں، یا میدان میں ڈٹے رہتے ہو یا شہادت پا کر اپنے رب کے ہاں زندہ رزق پاتے ہو۔
انہوں نے کہا کہ دشمن یہ سمجھ رہا تھا کہ مزاحمت ختم ہو جائے گی اور شکست کھا جائے گی، لیکن مجاہدین کے جہاد نے ایسی استقامت کی داستان رقم کی جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت نے عزت کی زندگی کو ذلت پر ترجیح دی اور آزادی، خودمختاری اور وقار کی علامت بن گئی۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ حزب اللہ ایک ایسے وحشی اور مجرم صہیونی دشمن کا سامنا کر رہی ہے جسے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی پشت پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مزاحمت محدود وسائل کے ساتھ میدان میں موجود ہے، لیکن اللہ کی مدد اس کے ساتھ ہے اور اسی لیے فتح مزاحمت کا مقدر ہوگی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ اور اسرائیل لبنان کو جھکانے اور اسے گریٹر اسرائیل نامی منصوبے کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم حزب اللہ ہرگز ہتھیار نہیں ڈالے گی۔
حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ چاہے قربانی کتنی ہی بڑی کیوں نہ دینی پڑے، ہم ہرگز سرنڈر نہیں کریں گے۔ لبنان اور اس کے عوام کا دفاع جاری رکھیں گے، کیونکہ مزاحمت کی قیمت، غلامی اور ہتھیار ڈالنے سے کہیں کم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم کبھی میدان نہیں چھوڑیں گے اور اسے اسرائیل کے لیے جہنم بنا دیں گے۔ ہم دو مارچ سے پہلے والی صورتحال کی طرف واپس نہیں جائیں گے اور دشمن کی ہر جارحیت کا جواب دیں گے۔
شیخ نعیم قاسم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے ممکنہ معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس میں لبنان پر حملے روکنے کی شق شامل ہو تو یہ جارحیت روکنے کے لیے ایک مضبوط قدم ہوگا۔ انہوں نے لبنان اور اس کے عوام کے لیے ایران کی توجہ اور حمایت پر تہران کا شکریہ بھی ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ لبنان کے مفادات کے حصول کے لیے مذاکرات ریاستی ذمہ داری ہے اور حزب اللہ لبنان کی خودمختاری کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے تاکہ سمندر، زمین اور فضاء میں اسرائیلی حملے روکے جا سکیں، مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرایا جا سکے، فوج تعینات ہو، قیدیوں کی رہائی ممکن ہو اور متاثرہ افراد اپنے گھروں کو واپس جا سکیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ لبنان کے ہتھیار، مزاحمت اور داخلی معاملات کسی بیرونی فریق سے متعلق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کی جامع حکمت عملی کے تحت سیاسی، معاشی اور عسکری سطح پر مکمل جائزہ لیا جانا چاہیے۔
پیغام کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ہماری تمام مزاحمت صرف جارحیت روکنے کے لیے ہے اور ہم کبھی میدان نہیں چھوڑیں گے۔
