
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے آبنائے ہرمز کے قریب برطانیہ اور فرانس کے جنگی جہاز بھیجنے پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فرانس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے طیارہ بردار بحری جہاز شارل ڈیگال کو مبینہ طور پر برطانیہ کے ساتھ مشترکہ مشن کے لیے بحیرہ احمر اور خلیج عدن بھیجا ہے جبکہ برطانیہ بھی ایک جنگی جہاز خطے کی طرف روانہ کررہا ہے۔
کاظم غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے اطراف خطے سے باہر کے ممالک کے جنگی جہازوں کی تعیناتی، جہاز رانی کے تحفظ کے دعوے کے باوجود دراصل بحران کو بڑھانے اور ایک اہم آبی گزرگاہ کو بحران میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں عدم استحکام کی اصل وجہ طاقت کا غیر قانونی استعمال، ساحلی ممالک کو دھمکیاں دینا اور بحری ناکہ بندی جیسے اقدامات ہیں۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز کسی بیرونی طاقت کی مشترکہ ملکیت نہیں بلکہ ایران ایک ساحلی ریاست کے طور پر اپنی خودمختاری اور قانونی انتظامات کے تعین کا حق رکھتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فرانس، برطانیہ یا کسی اور ملک کے بحری جہاز آبنائے ہرمز میں امریکہ کی غیر قانونی کارروائیوں کا ساتھ دینے کے لیے آئے تو ایرانی مسلح افواج کی جانب سے اس کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
