اکھلیش یادو نے اپنے بیان میں اخلاقیات اور انسانی رویوں پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اصل برائی کسی انسان میں نہیں بلکہ اس کے لالچ اور خود غرضی میں ہوتی ہے، جو آہستہ آہستہ انسان کے برے طرز عمل کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ان کے مطابق جب انسان برائی کے راستے پر چلتا ہے تو وہ مزید برائی کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس اگر کوئی شخص ذاتی مفاد چھوڑ کر دوسروں کی بھلائی کے راستے پر چل پڑے تو اس کی زندگی میں مثبت تبدیلی آسکتی ہے اور وہ انسانیت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ انسان کے اندر موجود چند اچھائیاں اس کی بے شمار برائیوں پر غالب آسکتی ہیں اور یہی پیغام ہمارے عظیم رزمیہ قصوں اور روایات میں بھی ملتا ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ اپنی غلطیوں اور بری نیتوں پر ندامت کے لیے کسی خاص جگہ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے انسان کے اندر روشنی اور احساس بیدار ہونا ضروری ہے، چاہے وہ سینکڑوں لوگوں کے درمیان کسی بند ماحول میں ہی کیوں نہ ہو۔
