
مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: 7 اکتوبر کے واقعات کے بعد صہیونی حکومت کو اپنی دفاعی برتری کے حوالے سے ایک سنگین اور بے مثال چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نے حماس اور حزب اللہ پر بھاری حملوں اور انہیں شدید نقصان پہنچانے کی حکمت عملی اپنائی، تاکہ خطے میں طاقت کا ایک نیا توازن قائم کر سکے۔ شمالی محاذ پر یہ سلسلہ آخر کار لبنان میں جنگ بندی کے ایک معاہدے پر ختم ہوا؛ لیکن اسرائیل کی جانب سے اس معاہدے کی بار بار خلاف ورزی اور اس وقت حزب اللہ کی پراسرار خاموشی نے مبصرین کے ذہنوں میں یہ تاثر پکا کردیا کہ شاید حزب اللہ کی آپریشنل صلاحیت کمزور اور اسرائیل کے سامنے اس کی طاقت کا رعب ختم ہوچکا ہے۔ تاہم، ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان 40 روزہ جنگ کا آغاز ایک ایسا اہم موڑ ثابت ہوا جس نے تمام حساب کتاب بدل دیے اور حزب اللہ دوبارہ میدان جنگ میں اتر آئی۔
بدلتے ہوئے حالات میں دفاعی برتری کا وہ پرانا تصور اب ختم ہوچکا ہے جو صرف سرخ لکیر اور بدلے کی دھمکی پر مبنی تھا۔ اب جو لڑائی جاری ہے، وہ دراصل اس بات کا مقابلہ ہے کہ خطے میں طاقت کا نیا توازن کس کا ہوگا؟ حزب اللہ کا لبنان کی سرحد پر دوبارہ جنگ چھیڑنا کوئی وقتی جذباتی ردعمل نہیں ہے۔ یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے جس کا مقصد دشمن کو ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں الجھا کر اپنا رعب دوبارہ قائم کرنا اور مخالف کے منصوبوں کو ناکام بنانا ہے۔
اسٹریٹجک صبر کا خاتمہ اور عملی محاذ پر نئی حکمت عملی
نسبتا طویل عرصے تک حزب اللہ نے ایسی پالیسی اختیار کیے رکھی جسے سیاسی زبان میں اسٹریٹجک صبر کہا جاتا ہے۔ لیکن اب حزب اللہ کی خاموشی کا خاتمہ اور جنگی محاذ کو بھرپور انداز میں فعال کرنا اس بات کی واضح علامت ہے کہ اس کی عسکری حکمتِ عملی میں ایک گہری اور بنیادی تبدیلی آچکی ہے۔ 40 روزہ جنگ کے اثرات اور کشیدگی کی سطح میں تبدیلی نے وہ پالیسی عملاً ختم کر دی جس کے تحت حزب اللہ جان بوجھ کر غیر واضح طرزِ عمل اختیار کرکے جنگ کی حد سے نیچے رہتے ہوئے تناؤ کو قابو میں رکھتی تھی۔ اب حالات ایسے ہوچکے ہیں کہ محدود اور کنٹرول شدہ ردعمل کی گنجائش کم ہوتی جارہی ہے۔ یہ تبدیلی بین الاقوامی تعلقات کے معروف اصولوں پر مبنی ہے، جن کے مطابق اگر کوئی فریق بدلتے اور مقابلہ جاتی ماحول میں دشمن کے اقدام کا مناسب اور فوری جواب نہ دے تو اس کے ردعمل کی دھمکی کمزور پڑجاتی ہے، اور مخالف فریق اپنی مرضی کے مطابق حالات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے حزب اللہ نے محتاط خاموشی اور دفاعی انداز سے نکل کر براہ راست اور بڑھتی ہوئی نوعیت کی کارروائیوں کی طرف قدم بڑھایا ہے۔ اس کا مقصد منظم طریقے سے دشمن پر بڑھتی ہوئی دباو قائم کرنا ہے، تاکہ خطے میں کسی یکطرفہ سکیورٹی نظام کو جڑ پکڑنے سے روکا جاسکے۔
اس مرحلے پر حزب اللہ کا ہدف شاید صرف روایتی معنوں میں جنگ کو روکنا نہیں، بلکہ وہ اب بحران کو اس انداز سے سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے کہ دشمن مسلسل دباؤ اور نقصان کی وجہ سے کمزور ہوتا جائے۔ اس حکمت عملی کا مقصد ایک ایسے نئے توازن تک پہنچنا ہے جہاں جنگ جاری رکھنے کی قیمت دشمن کے لیے اتنی بڑھ جائے کہ اس کے فائدے سے زیادہ ہوجائے اور ایک نئی ڈیٹرنس قائم ہوسکے۔
نئی جنگی نئی حکمت عملی: حزب اللہ کے لیے FPV ڈرونز کی بڑھتی اہمیت
خطے میں طاقت کے نئے توازن کی کوشش میں حزب اللہ کی حکمتِ عملی میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے۔ اس تبدیلی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اب حزب اللہ FPV (فرسٹ پرسن ویو) خودکش ڈرونز کو بڑے پیمانے پر اور منظم انداز میں استعمال کررہی ہے۔ یعنی یہ ڈرونز اب صرف محدود کارروائیوں کے لیے نہیں بلکہ ایک باقاعدہ جنگی نظام اور نیٹ ورک کے طور پر میدان میں لائے جارہے ہیں۔ عسکری ٹیکنالوجی اور جنگی معیشت کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو FPV خودکش ڈرونز کو غیر متوازن جنگ میں ایک اہم اور فیصلہ کن ایجاد سمجھا جارہا ہے۔ ان کی وجہ سے حملہ اور دفاع کے درمیان روایتی توازن بدلنے لگا ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے نسبتاً کم وسائل رکھنے والی قوتوں کو بھی یہ صلاحیت دے دی ہے کہ وہ زیادہ طاقتور اور جدید فوجی نظام رکھنے والے دشمن کو مؤثر انداز میں چیلنج کرسکیں۔
ان ڈرونز کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی کم لاگت ہے۔ انہیں بنانا، جوڑنا اور استعمال کرنا نسبتاً سستا ہے، جبکہ دوسری طرف انہیں روکنے کے لیے استعمال ہونے والے فضائی دفاعی نظام اور انٹرسیپٹر میزائلوں کی قیمت کئی ملین ڈالر تک پہنچتی ہے۔ اس فرق نے میدانِ جنگ میں لاگت اور فائدے کے حساب کو یکسر بدل دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دشمن کو ایک ایسے معاشی اور عسکری دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس میں دفاع کی قیمت حملے سے کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔
FPV ڈرونز کی تکنیکی خصوصیات بھی انہیں خطرناک بناتی ہیں۔ یہ تیز رفتار ہوتے ہیں، پیچیدہ جغرافیائی علاقوں میں باآسانی راستہ بنا سکتے ہیں، بہت کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں اور اکثر روایتی ریڈار نظاموں سے بچ نکلتے ہیں۔ ان کی یہ صلاحیتیں جدید دفاعی نظام رکھنے والی فوجوں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں، کیونکہ انہیں بروقت دیکھنا اور روکنا آسان نہیں رہتا۔ اسی وجہ سے یہ ٹیکنالوجی اب صرف ایک سادہ ہتھیار نہیں رہی بلکہ جنگ کی مجموعی حکمتِ عملی کا حصہ بن گئی ہے۔ FPV ڈرونز دشمن کو جسمانی نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ سیاسی اور معاشی دباؤ بھی پیدا کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، یہ صرف میدان جنگ میں حملے کا ذریعہ نہیں بلکہ دشمن کی جنگی منصوبہ بندی، اس کے وسائل اور اس کی معیشت کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر ہتھیار بھی بن گئے ہیں۔
حزب اللہ اس نئی حکمتِ عملی میں دو طریقے بیک وقت استعمال کر رہی ہے۔ ایک طرف وہ ان ڈرونز کے ذریعے انتہائی درست اور محدود اہداف کو نشانہ بناتی ہے، اور دوسری طرف ایک ہی وقت میں بڑی تعداد میں ڈرونز بھیجنے کی حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔ اس طریقے میں دفاعی نظام بیک وقت آنے والے اہداف کی زیادہ تعداد کی وجہ سے دباؤ میں آجاتے ہیں۔ اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد دشمن پر مسلسل دباو بڑھانا ہے۔ یعنی جنگ کو اس انداز میں آگے بڑھانا کہ دشمن کو عسکری، معاشی اور نفسیاتی طور پر بتدریج تھکن اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑے۔ یوں طویل مدت میں اسے ایک ایسے نئے توازن کو قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکے جو اب خطے میں آہستہ آہستہ تشکیل پا رہا ہے۔
شام کی سرحدوں پر نئی صف بندیاں اور عارضی اتحاد کی سیاست
نئے ہتھیاروں اور دفاعی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم مگر نسبتاً کم زیرِ بحث پہلو بھی ہے، اور وہ ہے کہ شام کی سرحدوں کی بدلتی ہوئی سیاسی و معاشی صورتِ حال اور عارضی جنگی اتحاد تشکیل پارہا ہے۔ جیسے جیسے لڑائی کا دائرہ وسیع ہوا اور براہِ راست محاذ کھلا، امکان ہے کہ مزاحمتی قوتوں نے شام میں موجود مختلف مسلح گروہوں کے ساتھ ایک عملی اور وقتی طرزِ عمل اختیار کیا ہو۔ ان گروہوں میں تحریر الشام اور دوسرے مقامی مسلح دھڑے بھی شامل ہیں۔ میدانِ جنگ میں مفادات کا یہ ملاپ دراصل کسی باضابطہ اتحاد یا باقاعدہ تعاون کی صورت نہیں ہے۔ اسے زیادہ درست طور پر ایک سرد اور مفاد پر مبنی لین دین کہا جا سکتا ہے۔ اس تعلق کی بنیاد نظریاتی ہم آہنگی نہیں بلکہ جنگ کی معاشی منطق اور مالی مفادات ہیں۔ یعنی مختلف فریق اس لیے ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں کہ اس سے انہیں وقتی فائدہ حاصل ہوسکے۔
یہ صورتِ حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شام جیسے پیچیدہ اور غیر مستحکم ماحول میں دفاعی توازن دوبارہ قائم کرنا صرف ہتھیار جمع کرنے سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ مختلف اور غیر یکساں گروہوں کو معاشی ذرائع کے ذریعے میدان میں متحرک کیا جائے اور جنگ کے محاذوں میں تنوع پیدا کیا جائے۔ یہی حکمتِ عملی دراصل مخالف قوت کی فوجی طاقت کو آہستہ آہستہ کمزور کرنے کا ایک اہم طریقہ بن جاتی ہے۔
نئے جنگی توازن کو درپیش چیلنج: کمزور روابط اور برقی جنگ کا خطرہ
اگرچہ اس حکمت عملی کے ذریعے دشمن پر کچھ حد تک دباؤ ڈالنے اور اسے نقصان پہنچانے میں کامیابی ملی ہے، لیکن جو نیا دفاعی توازن اب بن رہا ہے وہ خود بھی کئی گہری کمزوریوں اور چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے۔ اس لیے اس صورتِ حال کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا ضروری ہے۔ سب سے پہلی کمزوری ٹیکنالوجی کے میدان میں ہے۔ خودکش ڈرونز کے استعمال سے حاصل ہونے والی برتری ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رہتی۔ دفاعی ٹیکنالوجی ہمیشہ اور مسلسل مقابلے میں رہتی ہے جہاں ایک فریق کی نئی ایجاد کے جواب میں دوسرا فریق نئی تدابیر اختیار کرتا ہے۔ اگر مخالف قوتیں زیادہ سرمایہ لگا کر جدید برقی جنگی نظام تیار کریں، کنٹرول کے اشاروں میں خلل ڈالیں اور رہنمائی کے نظام کو ناکارہ بنادیں تو ان کم قیمت ڈرونز کی کارکردگی تیزی سے کم ہوسکتی ہے۔
دوسری اہم کمزوری جنگ کی معاشی بنیاد سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ اتحاد جو صرف مالی مفادات کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں، عموما زیادہ مضبوط نہیں ہوتے۔ ایسے گروہ جو صرف مالی فائدے کے لیے میدان میں آتے ہیں، ان کے درمیان نظریاتی وابستگی یا مضبوط رشتہ موجود نہیں ہوتا، اس لیے دباؤ کے وقت ان کی وفاداری کمزور پڑسکتی ہے۔ اگر مالی توازن بدل جائے، پابندیاں سخت ہوجائیں یا مخالف خفیہ اداروں کی طرف سے زیادہ پرکشش پیشکشیں سامنے آجائیں تو یہی گروہ اپنا رخ بدل سکتے ہیں اور بعض صورتوں میں اپنے موجودہ سرپرستوں کے لیے خطرہ بھی بن سکتے ہیں۔ اسی لیے شام جیسے غیر مستحکم ماحول میں مالی بنیادوں پر نیٹ ورک بنانا دو دھاری تلوار کی طرح ہے، جسے برقرار رکھنے کے لیے مسلسل وسائل، نگرانی اور پیچیدہ حفاظتی نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔
حاصل سخن
40 روزہ جنگ اور لبنان کا محاذ کھلنے سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ شام کے خطے میں طاقت کا پرانا اور روایتی تصور اب پہلے جیسا مؤثر نہیں رہا۔ موجودہ حالات میں اسے اسی شکل میں دوبارہ قائم کرنا بھی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ حزب اللہ کا اسٹریٹجک احتیاط اور محدود ردِعمل کی پالیسی سے نکل کر جدید ہتھیاروں اور جنگی معیشت کے مختلف ذرائع استعمال کرنے کی طرف بڑھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مزاحمتی محاذ نے بدلتے ہوئے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمتِ عملی کو نئے انداز میں ترتیب دیا ہے۔
تاہم یہ کہنا کہ حزب اللہ نے اپنی ڈیٹرنس مکمل طور پر دوبارہ حاصل کرلی ہے، ابھی قبل از وقت ہوگا اور اس معاملے میں محتاط انداز اپنانا زیادہ مناسب ہے۔ یہ درست ہے کہ حزب اللہ نے عسکری، نفسیاتی اور معاشی سطح پر دشمن پر دباؤ ڈالنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس دباؤ نے مخالف کی بعض حکمت عملیوں کو محدود کیا ہے اور ساتھ ہی ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں حزب اللہ کی جوابی صلاحیت بھی واضح ہوئی ہے۔ اس کے باوجود، الیکٹرانک جنگ کے ممکنہ خطرات اور مالی مفادات پر قائم کمزور اتحاد اس نظام کو مکمل طور پر مضبوط اور مستقل بننے سے روکتے ہیں۔
موجودہ حالات میں طاقت کا نیا توازن کسی واضح اور سخت سرخ لکیر پر قائم نہیں رہا۔ اب یہ ایک لچکدار اور مسلسل بدلنے والا عمل بن چکا ہے۔ اس عمل میں دونوں فریق دباؤ اور کشیدگی کو ایک حد تک برقرار رکھتے ہوئے کوشش کر رہے ہیں کہ خطے کے مستقبل کے سکیورٹی ڈھانچے کو اپنے حق میں ڈھالا جا سکے۔ اس نئے طرز میں ڈیٹرنس کوئی ساکت یا مستقل حالت نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مرحلہ وار شکل اختیار کر رہا ہے۔ اسی وجہ سے کہا جاسکتا ہے کہ خطے میں ابھرنے والا یہ نیا توازن ابھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوا اور ابھی بھی تشکیل اور تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔
