مسلم خاتون جیلر نے عمر قید کاٹ چکے ہندو قیدی سے کرلی محبت کی شادی – مسلم خاندان کی عدم شرکت پر وی ایچ پی قائدین نے دیا نئے جوڑے کو آشرواد

مدھیہ پردیش کے ستنا ضلع میں ایک مسلم خاتون  جیلر  نے قتل کے مقدمہ میں عمر قید کی سزا کاٹ چکے سابق ہندو قیدی سے محبت کی شادی کرلی، ان کی محبت کا آغاز جیل کے اندر ہوا اور بالآخر بین مذہبی شادی پر ختم ہوا۔

 

رپورٹس کے مطابق ستنا سینٹرل جیل کی اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ فیروزہ خاتون کی ملاقات دھرمندر سنگھ سے اس وقت ہوئی جب وہ جیل میں وارنٹ انچارج کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ چھترپور ضلع کا رہنے والا دھرمندر سنگھ 2007 میں ایک کونسلر کے قتل کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا۔ جیل کے دوران وہ انتظامیہ کے ساتھ وارنٹ سے متعلق کام میں مدد کرتا تھا، جس سے دونوں کے درمیان رابطہ بڑھا اور یہ تعلق دوستی سے آگے بڑھ کر محبت میں تبدیل ہوگیا۔

 

اچھی سلوک کی بنیاد پر تقریباً 14 سال قید کاٹنے کے بعد سنگھ کو چار سال قبل رہائی ملی۔ رہائی کے بعد دونوں نے اپنے تعلق کو باضابطہ شکل دینے کا فیصلہ کیا۔

 

یہ شادی 5 مئی کو چھترپور ضلع میں ویدک رسومات کے مطابق انجام دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ سماجی دباؤ سے بچنے کے لیے دھرمندر سنگھ نے شادی کے کارڈ میں اپنا نام تبدیل کیا۔ اس بین مذہبی شادی میں فیروزہ خاتون کے مسلم رشتہ دار شریک نہیں ہوئے، جبکہ وشوا ہندو پریشد کے مقامی قائد راج بہادر مشرا اور ان کی اہلیہ نے کنیا دان کی رسم ادا کی، اور بجرنگ دل کے کارکنان بھی تقریب میں موجود تھے۔

 

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *