مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ٹی وی چینل نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکی فوجیوں کو لے جانے والے دو جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے دوران ایرانی حملوں کی زد میں آگئے جبکہ برطانوی میری ٹائم سیکورٹی ادارے نے کہا ہے کہ اس وقت آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے خطرناک مقام بن چکا ہے۔
این بی سی چینل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے متعلق اپنا منصوبہ شروع کرنے کے 48 گھنٹے سے بھی کم وقت میں اسے عارضی طور پر روک دیا۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ کا ارادہ تھا کہ آبنائے ہرمز میں موجود جہازوں کو ایران کی اجازت اور ہم آہنگی کے بغیر اس راستے سے گزارا جائے، تاہم ایران کے سخت ردعمل کے بعد یہ منصوبہ ناکامی سے دوچار ہوگیا۔
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ منصوبے کا مقصد آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کو آسان بنانا تھا، تاہم عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے اس ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے دعوی کیا کہ یہ فیصلہ پاکستان سمیت بعض ممالک کی درخواست اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے جاری رہنے کے باعث کیا گیا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ اس فیصلے کا مقصد ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے وقت فراہم کرنا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ محاصرہ بدستور جاری رہے گا۔
ٹرمپ نے مذاکرات میں پیش رفت کا بھی ذکر کیا، لیکن کسی ممکنہ معاہدے کے وقت یا طریقہ کار سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
