
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بڑا سیاسی اُلٹ پھیر سامنے آیا ہے، جہاں ممتابنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس کو اقتدار سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سیاسی جھٹکے کے ساتھ ہی ممتا بنرجی کو ذاتی طور پر بھی بڑا نقصان اٹھانا پڑا، کیونکہ وہ اپنی روایتی نشست بھوانی پور سے اسمبلی انتخابات میں شکست سے دوچار ہو گئی ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق بھوانی پور حلقہ میں سویند ادھیکاری نے نمایاں برتری حاصل کرتے ہوئے کامیابی درج کی ہے۔ ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے، تاہم موصولہ رجحانات اور ووٹوں کے فرق کو دیکھتے ہوئے ممتا بنرجی کی شکست تقریباً یقینی مانی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں قریب 15 ہزار ووٹوں کے فرق سے شکست ہوئی ہے، جبکہ حتمی نتائج کا باضابطہ اعلان ابھی باقی ہے۔
ریاست بھر میں بی جے پی نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تقریباً 200 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جس کے نتیجے میں مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی 15 سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ دوسری جانب اپنی شکست پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ممتابنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر شدید الزامات عائد کئے
۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 100 سے زائد نشستوں پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور یہ کہ ریاست میں آزادانہ انتخابات کے بجائے بی جے پی کے اثر و رسوخ کے تحت عمل مکمل ہوا ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن نہیں بلکہ “بی جے پی کمیشن” نے کام کیا ہے۔
تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ان کی جماعت دوبارہ منظم ہو کر عوامی حمایت حاصل کرے گی اور مستقبل میں مضبوط واپسی کرے گی۔ ادھر اپنی کامیابی پر ردعمل دیتے ہوئے سویند ادھیکاری نے اس جیت کو نہایت اہم اور تاریخی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی میں ہندو، سکھ، بدھ اور جین برادریوں کی بھرپور حمایت شامل رہی۔
ریاست کی تمام نشستوں کے حتمی نتائج کا اعلان ابھی باقی ہے، تاہم موجودہ رجحانات نے مغربی بنگال کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کے آثار واضح کر دئیے ہیں۔
