
حیدرآباد: تلنگانہ کی سابق گورنر تملسائی سندرراجن کو ایک بار پھر انتخابی میدان میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے ساتھ ہی ان کے سیاسی کیریئر میں مسلسل ساتویں ناکامی درج ہو گئی ہے۔ انہوں نے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات 2026 میں مائیلاپور حلقہ سے مقابلہ کیا تھا، جہاں انہیں ٹی وی کے امیدوار پی وینکٹارامنان کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ ان نتائج کا اعلان پیر کے روز کیا گیا۔
واضح رہے کہ تملسائی سندرراجن کو 2019 میں تلنگانہ کا گورنر مقرر کیا گیا تھا، جہاں انہوں نے خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ پڈوچیری کی لیفٹیننٹ گورنر کی اضافی ذمہ داری بھی سنبھالی۔ تاہم انہوں نے مئی 2024 میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس سے قبل وہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں تھوتھوکوڈی حلقہ سے ڈی ایم کے لیڈر کنوموزی کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد گورنر کے عہدے پر فائز کی گئی تھیں۔
اپنے دورِ گورنری کے دوران وہ اکثر اس وقت کی بی آر ایس حکومت کے ساتھ اختلافات کے سبب سرخیوں میں رہیں۔ انہوں نے ریاستی حکومت پر پروٹوکول کی خلاف ورزی اور بطور خاتون امتیازی سلوک کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ اس کے علاوہ اسمبلی سے منظور شدہ بلوں پر تاخیر اور عدم تعاون کے الزامات بھی ان پر لگے،
جس کے باعث بی آر ایس حکومت کو معاملہ عدالت عظمیٰ تک لے جانا پڑا۔ مزید برآں، انہوں نے گورنر کوٹہ کے تحت داسوجو سراون اور کے ستیہ نارائنا کی ایم ایل سی نامزدگیوں کو بھی مسترد کر دیا تھا، جس پر سیاسی تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا۔
اگر ان کے انتخابی سفر پر نظر ڈالی جائے تو تملسائی سندرراجن 2006 سے مسلسل مختلف انتخابات میں حصہ لیتی رہی ہیں، تاہم انہیں کسی بھی انتخاب میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ انہوں نے 2006 میں رادھا پورم اسمبلی حلقہ، 2009 میں چنئی نارتھ لوک سبھا حلقہ، 2011 میں ویلاچیری اسمبلی، 2016 میں ویرگمباکم اسمبلی، 2019 میں تھوتھوکوڈی لوک سبھا اور 2024 میں چنئی ساؤتھ لوک سبھا انتخابات میں بھی شکست کا سامنا کیا۔ تازہ ترین شکست 2026 کے اسمبلی انتخابات میں مائیلاپور حلقہ سے ہوئی ہے، جو ان کی مسلسل ساتویں انتخابی ناکامی کے طور پر درج کی گئی ہے۔
