
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی جانب سے بار بار دھمکیوں اور سخت بیانات کے باوجود، صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف اپنی فوجی برتری کو کسی واضح سیاسی کامیابی میں تبدیل کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔
ٹرمپ کی تقاریر اور سوشل میڈیا پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اب بھی فوجی طاقت اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایران کو غیر مشروط طور پر جھکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ مسلسل امریکی طاقت اور ایران کے خلاف بحری محاصرے کا ذکر کرتے رہے ہیں۔
لبنانی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق، زمینی حقائق اس امریکی بیانیے سے بالکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ ایران کے مؤقف اور عملی اقدامات نے واضح کر دیا ہے کہ امریکی دعووں اور حقیقت کے درمیان گہرا فرق موجود ہے، جس سے ٹرمپ کی “فتح” کے دعوے پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز صہیونی ریاست کے اکسانے پر کیا، اور ٹرمپ کو یقین تھا کہ ایران جلد ہتھیار ڈال دے گا یا اس کی حکومت گر جائے گی۔ تاہم، نتائج اس کے برعکس نکلے اور امریکہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔
اس ناکامی کے بعد واشنگٹن کے سامنے دو راستے رہ گئے: یا تو جنگ سے پیچھے ہٹ جائے یا نئے فوجی اور سیاسی راستے تلاش کرے۔ لیکن ایران کی جانب سے سخت ردعمل، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے نے ان متبادل راستوں کو بھی محدود کر دیا۔
حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ امریکہ کے پاس صرف دو ہی امکانات بچے: مکمل کامیابی یا ذلت آمیز پسپائی۔
رپورٹ کے مطابق، امریکہ بار بار جنگ بندی میں توسیع کر کے وقت خریدنے کی کوشش کر رہا ہے اور امید رکھتا ہے کہ اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایران کو جھکایا جا سکے گا، تاہم یہ حکمت عملی بھی غیر یقینی کا شکار ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اس وقت ایک تین طرفہ بحران میں پھنس چکے ہیں: وہ جنگ جاری نہیں رکھنا چاہتے، ایران کو شکست نہیں دے سکتے اور ان کے پاس کوئی واضح متبادل بھی موجود نہیں۔
اگر ایران امریکی دباؤ کے سامنے نہ جھکا تو ٹرمپ کو اندرون ملک سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب، کسی نئے معاہدے کی صورت بھی امریکہ کے اندرونی سیاسی حالات کے باعث زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر امریکہ ایران کو فوری طور پر شکست دے سکتا تو وہ پہلے ہی ایسا کر چکا ہوتا، لیکن مسلسل جنگ بندی میں توسیع اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
آخر میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اس وقت ایک ایسے پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ہر فیصلہ خطرات سے بھرپور ہے، اور ٹرمپ ایک طویل اور غیر یقینی راستے پر کھڑے ہیں جہاں انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ انجام کامیابی ہوگا یا ایک بڑی ناکامی۔
