
نئی دہلی: ایرانی فوج نے ایک بار پھر اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ملک کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ ایرانی عسکری قیادت کے مطابق دستیاب شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکہ کسی بھی معاہدے یا سفارتی سمجھوتے کا پابند نہیں رہتا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے اعلیٰ فوجی حکام کے ساتھ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کرنےکے لیے ایک اہم اجلاس منعقد کیا ہے۔امریکی صدر اس سے قبل بھی متعدد بار ایران کو خبردار کر چکے ہیں کہ وہ جنگ بندی برقرار رکھے اور آبنائے ہرمز کو کھول دے
جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔ تاہم ایران اس مطالبے کو ماننے کے لیے تیار نہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ایرانی فوجی ہیڈکوارٹر کے نائب سربراہ محمد جعفر اسدی نے سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے ذریعہ جاری بیان میں کہا کہ امریکی حکام کے بیانات اور اقدامات زیادہ تر میڈیا پر اثرانداز ہونے کے لیے ہوتے
ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ کا پہلا مقصد تیل کی قیمتوں میں کمی کو روکنا اور دوسرا اپنی پیدا کردہ صورتحال سے نکلنے کی کوشش کرنا ہے۔ اسدی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی نئی امریکی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔دوسری جانب ایران-امریکہ کشیدگی کے دوران ایک افسوسناک واقعہ
بھی پیش آیا، جس میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار ہلاک ہو گئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب جنگ کے دوران گرائے گئے غیر پھٹے بم اچانک پھٹ گئے۔ یہ واقعہ تہران کے شمال مغرب میں واقع زنجان شہر کے قریب پیش آیا اور سات اپریل کو جنگ بندی کے آغاز کے بعد یہ سب سے بڑا جانی نقصان ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگ کے دوران کلسٹر بم اور دیگر بھاری اسلحہ استعمال کیا گیا تھا جو اب بھی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

