
پٹنہ – بریلی کے پاس چلتی ٹرین میں ہجومی تشدد میں جاں بحق مولانا توصیف رضا مظہری کی ایک پرانی ویڈیو سامنے آئی ہے، جس میں وہ ہجومی تشدد (موب لنچنگ) کے مسائل پر بات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور مسلمانوں سے آواز بلند کرنے اور سیاسی طور پر سرگرم ہونے، حتیٰ کہ صدر مجلس بیرسٹر اسد الدین اویسی جیسے قائدین کی حمایت کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔
آن کی یہ ویڈیو اس وقت دوبارہ منظرِ عام پر آئی جب بہار سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ عالم دین کی نعش 26 اپریل 2026 کو بریلی میں ریلوے پٹریوں کے قریب پائی گئی۔ جہاں حکام نے اس موت کو حادثہ قرار دیا ہے، وہیں ان کی اہلیہ تبسم خاتونِ کا الزام ہے کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر چلتی ٹرین سے پھینک دیا گیا۔ خاندان کے مطابق واقعے کے دوران ایک پریشان کن فون کال اور ویڈیو گفتگو بھی ہوئی تھی۔
بریلی پولیس کا کہنا ہے کہ گھر والوں کی جانب سے شکوک و شبہات ظاہر کئے جانے کے بعد “ضروری قانونی کارروائی” کی جائے گی، اور اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
