چالان کی زبردستی وصولی کے لئے ٹریفک پولیس کی کارروائی پر ہائی کورٹ برہم، ڈی جی پی سمیت اعلیٰ عہدیداروں کو نوٹس

تلنگانہ ہائی کورٹ نے ای چالان وصولی اور ٹریفک پولیس کے رویہ سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے کے معاملے میں سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریاست کے ڈی جی پی، پرنسپل سکریٹری داخلہ، اے سی پی ٹریفک اور چکڑ پلی ٹریفک پولیس کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

 

یہ معاملہ ویرا گووند راچاری کی جانب سے دائر کی گئی توہین عدالت کی درخواست سے متعلق ہے۔ درخواست گزار نے حکومت کے جی او 108 کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے جنوری میں اپنے حکم میں واضح کیا تھا کہ ٹریفک خلاف ورزیوں پر چالان کی وصولی کے لیے کسی قسم کی زبردستی کارروائی نہ کی جائے، گاڑیاں ضبط نہ کی جائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف صرف قانونی طریقہ کار یعنی عدالت میں چارج شیٹ داخل کی جائے۔

 

تاہم دورانِ سماعت یہ بات سامنے آئی کہ 9 اپریل کو آر ٹی سی کراس روڈ پر ایک وکیل کی گاڑی کو پرانے چالان کی بنیاد پر ضبط کر لیا گیا، جس کے خلاف دوبارہ توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ گاڑی مالک چالان ادا کرنے کے لیے تیار تھا، اس کے باوجود پولیس نے گاڑی کی چابیاں چھین لیں، حتیٰ کہ ڈیجیٹل آر سی دکھانے کے باوجود کارروائی کی گئی۔

 

دوسری جانب سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گاڑی سوار کو بغیر ہیلمٹ کے ہونے پر روکا گیا تھا۔ دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے سخت ریمارکس دیے اور کہا کہ سابقہ احکامات کی خلاف ورزی پر کیوں نہ توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ عدالت نے معاملے کی مزید سماعت 19 جون تک ملتوی کر دی ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *