معاملے کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے پایا کہ بینک اکاؤنٹ کسی سائبر کرائم کی معلومات کی وجہ سے منجمد نہیں کیا گیا تھا۔ بینک نے خود ہی تفتیشی ایجنسی کا کردار نبھایا۔ چنانچہ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بینک خود رقومات کے ذرائع کا تعین نہیں کر سکتے۔ اکاؤنٹ منجمد کرنے کے لیے پولیس، ای ڈی یا سی بی آئی جیسی ایجنسیوں سے ہدایات درکار ہوتی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ مناسب بنیادوں کے بغیر اکاؤنٹس کو منجمد کرنا ایک ’پریشان کرنے والا‘ رجحان ہے۔ اس طرح کی من مانی کارروائیاں کاروبار میں خلل ڈالتی ہیں اور کھاتہ داروں کی شبیہہ پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔
’جانچ ایجنسی کے طور پر کام نہیں کرسکتا بینک‘، اکاؤنٹ منجمد کرنے پر ہائی کورٹ نے عائد کیا جرمانہ
