کارلوٹا وولف نے خبردار کیا کہ ’’اگر مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام برقرار رہا، تو بڑھتے ہوئے اخراجات، تاخیر اور نقل و حمل کی محدود صلاحیت کی وجہ سے امدادی کام مزید متاثر ہو سکتے ہیں۔‘‘


i
مشرقی وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا اثر اب صرف اسی خطے تک محدود نہیں رہا ہے، بلکہ اس کا اثر پوری دنیا میں امدادی سامان پہنچانے والے نظام پر بھی پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزیں (یو این ایچ سی آر) کی ترجمان نے وارننگ دی ہے کہ اس سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سپلائی چین اور امداد کی تقسیم سے وابستہ کاموں پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔ خلیجی خطے کے اہم سمندری راستوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے آس پاس عدم تحفظ اور عدم استحکام بڑھنے سے جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے دنیا بھر میں ایندھن، کھانے پینے کی اشیاء اور مال برداری کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ اس صورتحال سے ضروری اشیاء مہنگی ہو گئی ہیں اور ان کی فراہمی میں تاخیر ہو رہی ہے۔
کارلوٹا وولف نے ایک باقاعدہ پریس بریفنگ میں کہا کہ قیمتوں میں اس اضافے کا سب سے زیادہ اثر ان لوگوں پر پڑ رہا ہے جو پہلے ہی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، جیسے کہ پناہ گزیں اور اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے لوگ۔ ساتھ ہی امدادی ایجنسیوں کے لیے بروقت امداد پہنچانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اہم سمندری راستوں کے بند ہونے کے باعث طویل اور زیادہ مہنگے متبادل راستے اختیار کرنے کی مجبوری پیدا ہوگئی ہے۔ اس سے وقت بھی زیادہ لگ رہا ہے اور کام مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ لڑائی شروع ہونے کے بعد سے ضروری سامان لانے والے ممالک کے لیے مال برداری کے اخراجات میں تقریباً 18 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ رواں سال کے آغاز سے یو این ایچ سی آر کے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی صلاحیت 97 فیصد سے کم ہو کر 77 فیصد رہ گئی ہے۔
یو این ایچ سی آر کی ترجمان کارلوٹا وولف نے کہا کہ ’’کچھ کھیپوں کے لیے اخراجات دوگنا سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں۔ مثال کے طور پر، دبئی میں یو این ایچ سی آر کے عالمی گوداموں سے سوڈان اور چاڈ میں ہماری مہمات کے لیے امدادی سامان کی نقل و حمل کی لاگت۔‘‘ یو این ایچ سی آر نے خاص طور پر افریقہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جہاں پہلے ہی نقل مکانی کے کئی بڑے بحران جاری ہیں اور اکثر انہیں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ کینیا میں جہاں یو این ایچ سی آر کا ایک عالمی گودام واقع ہے، حال ہی میں ایندھن کی قیمت میں تقریباً 15 فیصد اضافے سے ایتھوپیا، کانگو اور جنوبی سوڈان تک سامان بھیجنے میں تاخیر ہو رہی ہے اور ٹرکوں کی کمی بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’سنہوا‘ کی رپورٹ کے مطابق سوڈان میں حالیہ مہینوں میں امداد پہنچانے کی لاگت دوگنی ہو گئی ہے۔ وہیں ’کیپ آف گڈ ہوپ‘ کے راستے سامان بھیجنے پر ترسیل میں تقریباً 25 دن کی اضافی تاخیر ہو رہی ہے۔ ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام برقرار رہا، تو بڑھتے ہوئے اخراجات، تاخیر اور نقل و حمل کی محدود صلاحیت کی وجہ سے امدادی کام مزید متاثر ہو سکتے ہیں۔
