جیل میں محروس کشمیر کے رکن پارلیمنٹ انجینر رشید اپنے بیمار والد سے مل کر رو پڑے

دہشت گرد تنظیموں کی مدد کرنے کے الزام میں جیل میں محروس کشمیر کے لوک سبھا رکن شیخ عبدالرشید جمعرات کو اپنے علیل والد کی عیادت کے لیے سری نگر پہنچ گئے،  دہلی ہائی کورٹ نے انہیں ایک ہفتے کی عبوری ضمانت دی۔

 

حکام کے مطابق راشد، جو انجینئر راشد کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں اور جموں و کشمیر کے بارہمولہ سے رکن پارلیمنٹ ہیں، دوپہر میں سری نگر ایئرپورٹ پہنچے اور سیدھے ایس ایم ایچ ایس ہاسپٹل روانہ ہوگئے جہاں وہ اپنے علیل والد سے ملنے سیدھے ہاسپٹل گئے۔ والد کو دیکھتے ہی وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہوگئے، جس کی تصاویر اور ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں

 

عدالت نے منگل کو عبوری ضمانت دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس دوران راشد یا تو ہاسپٹل میں والد کی عیادت کر سکتے ہیں یا گھر پر رہ سکتے ہیں۔ عدالت کی بنچ، جسٹس پرتھیبا ایم سنگھ اور جسٹس مدھو جین پر مشتمل تھی، نے ہدایت دی کہ ہر وقت سادہ لباس میں کم از کم دو پولیس جوان ان کے ساتھ رہیں گے اور ان کے اخراجات راشد برداشت نہیں کریں گے۔ مزید یہ کہ اس مدت کے دوران قریبی رشتہ دار کے علاوہ کسی غیر ضروری شخص کو ملاقات کی اجازت نہیں ہوگی۔

 

یہ حکم عدالت نے اس اپیل کی سماعت کے دوران دیا جو راشد نے ٹرائل کورٹ کے 24 اپریل کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی تھی جس میں عبوری ضمانت سے انکار کیا گیا تھا۔ بارہمولہ کے رکن پارلیمنٹ راشد، جنہوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں عمر عبداللہ اور سجاد لون کو شکست دی تھی، اس وقت دہشت گردی کی مالی معاونت کے ایک مقدمہ میں زیر سماعت ہیں۔

 

راشد پر الزام ہے کہ انہوں نے جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندوں اور دہشت گرد تنظیموں کو مالی مدد فراہم کی۔ انہیں 2019 سے تہاڑ جیل میں رکھا گیا ہے، جہاں قومی تحقیقاتی ایجنسی نے 2017 کے ٹیرر فنڈنگ کیس میں گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں 2019 میں چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد، 2022 میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے ان کے خلاف مجرمانہ سازش، حکومت کے خلاف جنگ چھیڑنے اور بغاوت سمیت مختلف دفعات کے تحت فردِ جرم عائد کی۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *