خلیج فارس میں سیکورٹی کے نئے اصول: بیرونی طاقتوں پر انحصار میں کمی کا رجحان

مہر خبررساں ایجنسی، دفاعی ڈیسک: امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ حالیہ چالیس روزہ جنگ اور ایران کی کامیابی کے بعد خلیج فارس میں سیکورٹی کی اہمیت واضح ہونا شروع ہوئی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے علاقائی اور عالمی طاقتوں کے بدلتے ہوئے رویوں کے تناظر میں اس کو دیکھنا ضروری ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں، خلیج فارس کی سیکورٹی ایک ایسے نظام پر مبنی تھی جو بیرونی طاقتوں، خصوصاً امریکہ، کی موجودگی پر انحصار کرتا تھا اور یہ موجودگی بطور ستون پیش کی جاتی تھی۔

آج اس ماڈل کے کمزور پڑنے کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں اور نئے بیانیے جنم لے رہے ہیں جو سلامتی کو ایک مختلف زاویے سے تعریف کرتے ہیں۔ حالیہ واقعات اور ایران اور امریکہ کے درمیان محدود مگر معنی خیز ٹکراؤ نے اس تبدیلی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس تصوّر کے مطابق، یہ محض ایک عسکری مقابلہ نہیں بلکہ ایک لمحہ ہے جس میں طاقت کا تاثر بدل گیا ہے۔ موجودہ تجزیوں کے مطابق، امریکہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا اور یہی بات اس تصور کو مضبوط کرتی ہے کہ طاقت کے توازن میں تبدیلی آرہی ہے، جس کا اثر سیاسی رہنماؤں اور عوامی رائے پر بھی پڑ رہا ہے۔

بیرونی سیکورٹی پر انحصار اسٹرٹیجک غلطی

حالیہ واقعات کا ایک اہم نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ طویل عرصے تک نافذ رہنے والا درآمد شدہ سیکورٹی کا تصور اب اپنی اہمیت کھو رہا ہے۔ وہ ممالک جو اپنی سلامتی کو بیرونی فوجی موجودگی سے وابستہ کرتے آئے تھے، اب سوال کر رہے ہیں کہ کیا یہ انحصار واقعی پائیدار سلامتی فراہم کر سکا یا صرف کشیدگی بڑھانے کا سبب بنا۔ موجودہ تجربات اس تردید کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ بیرونی طاقتوں کی موجودگی، خاص طور پر شدید جغرافیائی سیاسی مقابلوں کے دوران بحران کے امکانات بڑھاتی ہے۔

اسی تناظر میں امریکہ کے فوجی اڈوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ اڈے جو کبھی طاقت کی علامت سمجھے جاتے تھے، اب بعض تجزیوں میں تناؤ کے ممکنہ مراکز یا ہدف کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ جب یہ تاثر مضبوط ہوجائے کہ یہ ڈھانچے اپنے اتحادیوں کا مؤثر دفاع نہیں کرسکتے یا خود خطرے کا سبب بن سکتے ہیں، تو ان کی افادیت مشکوک ہوجاتی ہے۔

علاقائی طاقتوں کی خودمختاری

ان واقعات کا ایک اور اہم نتیجہ یہ ہے کہ اب امریکہ کی موجودگی زیادہ تر غیر مستحکم عنصر کے طور پر دیکھی جاتی ہے نہ کہ استحکام فراہم کرنے والے کے طور پر۔ اس نظریے نے علاقائی سطح پر بیرونی فوجی موجودگی میں کمی یا خاتمہ کے تصور کو عملی سیاست میں جگہ دینے کے لیے راہ ہموار کی ہے۔ چند سال قبل یہ زیادہ تر ایک نظریاتی نعرہ تھا، لیکن اب یہ بتدریج عملی سیاست اور مذاکراتی ایجنڈا کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

اسی سلسلے میں علاقائی ممالک کے ذریعے علاقائی سیکورٹی کا تصور زور پکڑ رہا ہے۔ یہ نقطہ نظر اس بنیاد پر ہے کہ خلیج فارس کے ممالک، اگرچہ آپس میں اختلافات رکھتے ہیں لیکن اس آبی راستے کی سلامتی میں مشترکہ مفادات بھی رکھتے ہیں اور بات چیت اور مشترکہ میکانزم کے ذریعے اپنی سلامتی خود قائم کرسکتے ہیں۔ اس خیال کی راہ میں اگرچہ اب بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں، لیکن روایتی ماڈل کے متبادل کے طور پر اس کی سیاسی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔

خلیج فارس کی سیکورٹی اور ایران کی نئی حکمت عملی

اس دوران ایران کوشش کر رہا ہے کہ خود کو اس نئے نظام میں ایک اہم محور کے طور پر پیش کرے۔ یہ کوشش سخت اور نرم دونوں پہلوؤں پر مبنی ہے۔ سخت پہلو میں، ایران اپنی دفاعی طاقت کو بڑھانے اور حریف کے اندازوں کو تبدیل کرنے پر زور دے رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی عسکری اقدام کی قیمت نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے، اور یہی سبب ہے کہ اب حریف کے لیے فوجی کارروائی ایک آسان انتخاب نہیں بلکہ ایک سنجیدہ خطرہ بن چکی ہے۔ اس تبدیلی نے خطے کے دیگر کھلاڑیوں کے رویوں پر بھی اثر ڈالنا شروع کردیا ہے۔

نرم پہلو میں، خطے کی عوامی رائے میں آہستہ آہستہ تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ وہ قومیں جو برسوں تک یہ تصور کرتی رہی ہیں کہ بیرونی طاقتوں کی موجودگی سلامتی کی ضمانت ہے، اب اس سوچ پر نظر ثانی کررہی ہیں۔ ایسے بیانیے جو یہ بتاتے ہیں کہ بیرونی موجودگی بحران کا سبب بنتی ہے، تیزی سے پھیل رہے ہیں اور یہی چیز سماجی اور سیاسی ماحول کو بڑی تبدیلیوں کے لیے تیار کر رہی ہے۔ یہ ذہنی تبدیلی اگرچہ دھیرے دھیرے آتی ہے، لیکن ایک بار جب مستحکم ہوجائے تو اسے واپس پلٹانا بہت مشکل ہوتا ہے۔

ان تبدیلیوں کا ایک مرکزی نقطہ آبنائے ہرمز ہے؛ وہ گذرگاہ جس کی اہمیت صرف جغرافیہ تک محدود نہیں ہے۔ یہ گزرگاہ سالوں سے عالمی توانائی کی ایک اہم شریان کے طور پر جانا جاتا تھا، لیکن اب نئے دور میں اس کا کردار ایک نئے، اسٹریٹجک زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز اب طاقت کے توازن میں ایک کلیدی ہتھیار کے طور پر سامنے آئی ہے؛ ایک ایسا مقام جہاں آنے والی کسی بھی قسم کی تبدیلی کا خطے سے باہر بھی اثر پڑسکتا ہے۔

ایران اور آبنائے ہرمز کا انتظام

اس تناظر میں، ایران کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام ایک کلیدی موضوع بن چکا ہے۔ اس کا مطلب صرف جغرافیائی کنٹرول نہیں بلکہ خطے کی سلامتی اور اقتصادی توازن میں اہم کردار ادا کرنا بھی ہے۔ ایران اس گزرگاہ کا ایک مرکزی کھلاڑی ہونے کی حیثیت سے توانائی کے بہاؤ پر اثر ڈال سکتا ہے، اور اس کے نتیجے میں عالمی پالیسیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ یہی صلاحیت ایران کی جغرافیائی سیاسی اہمیت کو مضبوط کرتی ہے اور اسے اس نئے نظام میں ایک ایسا کھلاڑی بناتی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

ایک اور زاویے سے دیکھا جائے تو آبنائے ہرمز کی اہمیت اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ جغرافیہ اب بھی سیاست میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے عالمی دور میں جہاں ٹیکنالوجی اور معیشت کی اہمیت بڑھ گئی ہے، پھر بھی کچھ مقامات ایسے ہیں جو اپنی خاص جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے بڑے عالمی توازنات پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز انہی مقامات میں سے ایک ہے اور نئے دور میں اس کی اہمیت پہلے سے زیادہ تسلیم کی جارہی ہے۔

آخرکار، جسے خلیج فارس کے نئے دور کا آغاز کہا جا رہا ہے، وہ دراصل کئی باہم جڑے ہوئے رجحانات کا مجموعہ ہے جو اس خطے کے نقشے کو بدل رہا ہے۔ بیرونی سیکورٹی پر اعتماد میں کمی، غیر ملکی فوجی موجودگی کی افادیت پر شک، علاقائی کھلاڑیوں کے بڑھتے ہوئے کردار، دفاعی طاقت کی مضبوطی، عوامی رائے میں تبدیلی، اور تنگہ ہرمز جیسے اسٹریٹجک مقامات کی اہمیت یہ سب اس تبدیلی کی واضح علامتیں ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *