زمین کے تنازعات کے حل کے لیے علیحدہ عدالتی نظام کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں سماعت شروع

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ زمین سے جڑے تنازعات ملک کے دیہی علاقوں میں سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اضلاع کے دوروں کے دوران لوگوں کی سب سے بڑی شکایت یہی سامنے آتی ہے کہ زمین کے مقدمات برسوں تک زیر التوا رہتے ہیں۔ انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک معاملہ گزشتہ چالیس 40 برس سے چک بندی افسر کے سامنے زیر سماعت ہے، جس میں یہ طے ہونا باقی ہے کہ کون سا ہبہ نامہ درست ہے۔

عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک میں تقریباً 66 فیصد دیوانی مقدمات زمین اور جائیداد سے متعلق ہوتے ہیں لیکن ان کا ابتدائی فیصلہ ایسے انتظامی افسران کرتے ہیں جو قانونی تربیت سے محروم ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں فیصلوں میں تضاد، تاخیر اور قانونی خامیاں پیدا ہوتی ہیں، جس سے عام لوگوں کو انصاف حاصل کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *