صحافیوں کے ایکریڈٹیشن کارڈز کی مدت 16 جون تک بڑھا دی گئی

 

حیدرآباد، 30 اپریل: تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاست میں صحافیوں کے ایکریڈٹیشن کارڈز کی معیاد 16 جون 2026 تک بڑھا دی ہے۔

ہائی کورٹ نے یہ ہدایت ان عرضیوں کی سماعت کے دوران جاری کی، جن میں جی او ایم ایس نمبر 252 اور اس میں ترمیم شدہ جی او 103 کو چیلنج کیا گیا ہے۔

یہ عرضیاں تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن (ٹی یو ڈبلیو جے ایف) اور دو دیگر کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔ فیڈریشن نے حکومتی احکامات کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے مقدمہ کے دوران ایکریڈٹیشن سہولتوں کے تحفظ کی بھی اپیل کی۔ عرضی گزاروں کی جانب سے وکیل برکت علی خان نے عدالت میں نمائندگی کی۔

سماعت کے دوران اسپیشل ایڈوکیٹ جنرل نے ریاستی حکومت کا موقف عدالت کے سامنے پیش کیا اور بتایا کہ حکومت نے موجودہ ایکریڈٹیشن کارڈز کی مدت ایک ماہ کے لیے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم عدالت نے مشاہدہ کیا کہ یہ توسیع گرمیوں کی تعطیلات کے دوران آ رہی ہے، اس لیے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے معیاد کو مزید بڑھاتے ہوئے 16 جون تک کر دیا گیا۔

عدالت نے دلائل کو ریکارڈ میں لیتے ہوئے واضح احکامات جاری کیے کہ تمام موجودہ ایکریڈٹیشن کارڈز 16 جون 2026 تک کارآمد رہیں گے۔ ساتھ ہی ریاستی حکومت کو معاملہ میں تفصیلی جوابی حلف نامہ داخل کرنے کے لیے مہلت دی گئی۔

ہائی کورٹ کی راحت سے صحافیوں کو تسلسل برقرار

اس فیصلے کے نتیجے میں تلنگانہ بھر کے منظور شدہ صحافی بغیر کسی رکاوٹ کے سرکاری تقاریب تک رسائی حاصل کرتے رہیں گے اور ایکریڈٹیشن سے وابستہ تمام سہولتیں بھی انہیں دستیاب رہیں گی۔ اس توسیع سے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کی خلل اندازی نہیں ہوگی۔

مزید برآں، تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن نے وکیل برکت علی خان کے ذریعے ایک ضمنی درخواست بھی داخل کی ہے، جس میں فریقین کو مکمل اعداد و شمار ریکارڈ پر پیش کرنے کی ہدایت دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ اس میں موصولہ درخواستوں، جاری کردہ کارڈز اور مسترد شدہ درخواستوں کی تفصیلات بمعہ وجوہات فراہم کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔ عدالت آئندہ سماعت میں اس درخواست پر غور کرے گی۔

فیڈریشن کے جنرل سکریٹری سید غوث محی الدین نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا، تاہم اسے عارضی راحت قرار دیا اور کہا کہ فیڈریشن مستقل حل کے لیے اپنی قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔

عدالت نے آئندہ سماعت 16 جون 2026 کو مقرر کی ہے، جہاں متنازعہ حکومتی احکامات کی قانونی حیثیت پر حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ اس وقت تک صحافی بغیر کسی غیر یقینی صورتحال کے اپنے فرائض انجام دے سکیں گے۔

یہ پیش رفت ریاست بھر کے میڈیا پیشہ وروں کے لیے اہمیت کی حامل ہے، جو نہ صرف ان کے کام کے ماحول میں استحکام فراہم کرتی ہے بلکہ ایکریڈٹیشن پالیسیوں اور ان کے نفاذ سے متعلق جاری خدشات کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *