اسی دوران ملک میں بجلی کا بحران بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں قلت بڑھ کر تقریباً 3,400 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔ شمالی علاقوں کے بعض حصوں میں روزانہ سات گھنٹے تک بجلی کی کٹوتی ہو رہی ہے، جو عوامی زندگی اور صنعتی سرگرمیوں دونوں کو متاثر کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان رسمی بینکاری نظام کی عدم موجودگی کے باعث کئی تجارتی لین دین اب بھی بارٹر نظام کے تحت انجام دیے جاتے ہیں۔ اس پس منظر میں پاکستان کا یہ واضح مفاد ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کسی طویل تنازع میں تبدیل نہ ہو، کیونکہ اس کا براہِ راست اثر ملک کی معیشت اور توانائی کے تحفظ پر پڑ سکتا ہے۔
