
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات نے ایک بڑا اور حیران کن فیصلہ کرتے ہوئے اوپیک اور اوپیک پلس اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ یکم مئی سے نافذ العمل ہوگا۔ اس پیش رفت نے عالمی توانائی مارکیٹ اور تیل کی قیمتوں کے مستقبل پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ خاص طور پر اوپیک کی قیادت کرنے والے سعودی عرب کے لیے ایک بڑا جھٹکا سمجھا جا رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات طویل عرصے سے اس تنظیم کا اہم رکن رہا ہے اور تیل کی پیداوار اور پالیسی سازی میں اس کا کردار نمایاں رہا ہے۔
یاد رہے کہ اوپیک (آئل ایکسپورٹنگ کنٹریز کی تنظیم) میں متحدہ عرب امارات 1967 میں شامل ہوا تھا، یعنی تنظیم کے قیام کے چند سال بعد۔ سعودی عرب اور عراق کے بعد اسے خطے کے بڑے تیل برآمد کرنے والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات نے اپنی علیحدگی کی وجوہات واضح طور پر بیان نہیں کیں، تاہم کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تیل کی پیداوار کے کوٹے پر اختلافات اس فیصلے کی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ بالخصوص خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بعض علاقائی معاملات پر اختلافات کو بھی اس پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
فی الحال اس فیصلے کے عالمی تیل مارکیٹ پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے ماہرین میں تشویش اور تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
