امریکہ کی لامحدود خواہشات کے باعث مذاکرات منطقی نتیجے تک نہ پہنچ سکے، عراقچی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے غلط رویّے اور حد سے بڑھی ہوئی خواہشات کے باعث گزشتہ دور کے مذاکرات پیش رفت کے باوجود اپنے مطلوبہ اہداف حاصل نہ کرسکے۔

سید عباس عراقچی نے سینٹ پیٹرزبرگ پہنچنے کے فورا بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور روس کے درمیان ہمیشہ قریبی مشاورت جاری رہی ہے اور دونوں ممالک مختلف امور خصوصاً علاقائی مسائل کے حوالے سے مسلسل دوطرفہ رابطے اور مذاکرات کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ رمضان کے باعث کچھ عرصہ ملاقاتوں میں وقفہ آگیا تھا، تاہم موجودہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان اور عمان کے دوروں کے بعد روس کا سفر بھی طے کیا گیا تاکہ اس مدت کے دوران جنگ سے متعلق ہونے والی پیش رفت اور موجودہ صورتحال پر روسی حکام کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جاسکے۔

عراقچی نے کہا کہ پاکستان اور عمان کے دورے مکمل طور پر دوطرفہ نوعیت کے تھے۔ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا اہم کردار ادا کیا، اسی لیے ضروری تھا کہ تازہ ترین پیش رفت اور صورتحال پر پاکستانی حکام کے ساتھ مشاورت کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مذاکراتی عمل کے دوران بعض تبدیلیاں رونما ہوئیں، تاہم امریکہ کے غلط طرز عمل اور حد سے بڑھی ہوئی شرائط کے باعث مذاکرات گزشتہ دور میں ہونے والی پیش رفت کے باوجود اپنے اہداف تک نہ پہنچ سکے۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان میں ایرانی وفد کی مشاورتیں مثبت رہیں اور یہ دورہ کامیاب رہا، جس میں گزشتہ مراحل کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر گفتگو کی گئی کہ کس راستے اور کن شرائط کے تحت مذاکرات کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایرانی عوام کی چالیس روزہ بہادرانہ مزاحمت کے بعد ضروری ہے کہ ایران اپنے عوام کے حقوق کا مکمل طور پر دفاع کرے اور قومی مفادات کو یقینی بنائے۔

عمان کے دورے سے متعلق عراقچی نے کہا کہ عمان ایک قریبی اور دوست ملک ہے جس نے حالیہ جنگ میں مثبت موقف اختیار کیا، اور اس لیے ضروری تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے، بالخصوص خلیج فارس کے خطے میں مشترکہ مسائل کو بہتر انداز میں سنبھالنے کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے۔

انہوں نے اس بات پر بھی تاکید کی کہ ایران اور عمان دونوں آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک ہیں اور اس اہم آبی گزرگاہ سے محفوظ آمدورفت ایک عالمی مسئلہ ہے، لہٰذا دونوں ممالک کے درمیان قریبی ہم آہنگی ناگزیر ہے تاکہ مشترکہ مفادات کا تحفظ ہوسکے۔

عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی اقدام میں ایران اور عمان کے مفادات براہ راست وابستہ ہیں، اور خوش آئند بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر وسیع اشتراک نظر پایا جاتا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *