دہلی میں قائم تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ ریسرچ اینڈ ریزولیوشن کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق نیپال میں چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی صرف اقتصادی تعاون تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے اسٹریٹجک اور سیاسی اثر و رسوخ کی شکل اختیار کر لی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین نے تبت اور تائیوان جیسے حساس معاملات پر نیپال پر سفارتی دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ داخلی پالیسی سازی کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔
اولی حکومت کے دوران چین کے ساتھ متعدد بڑے منصوبوں کو نیپال کی اقتصادی خود مختاری اور علاقائی رابطہ کاری کے لیے اہم قرار دیا گیا تھا۔ تاہم موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں میں سے کئی کے لیے نہ تو مالیاتی وضاحت موجود تھی اور نہ ہی ٹھوس عملی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ اسی لیے اب ان تمام معاہدوں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
