ٹرمپ کے ذریعہ ’مریض‘ اور ’پاگل‘ بتایا گیا واشنگٹن کا حملہ آور نکلا کمپیوٹر سائنس کا ماسٹر اور ویڈیو گیم ڈیولپر

مشتبہ شخص نے 2017 میں کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے انجینئرنگ میں بیچلر کی ڈگری اور 2025 میں کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے۔ وہ ویڈیو گیم ڈیولپر کے طور پر کام کرتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>مشتبہ ملزم (تصویر:  @realDonaldTrump(</p></div><div class="paragraphs"><p>مشتبہ ملزم (تصویر:  @realDonaldTrump(</p></div>

i

user

واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والی وائٹ ہاؤس کے رپورٹرز کی سالانہ عشائیہ تقریب جس میں صدر ٹرمپ بھی موجود تھے، کے دوران فائرنگ کرنے والے مبینہ مسلح شخص کو سیکرٹ سروس کی جانب سے قابو کرنے کی ویڈیو سامنے آ گئی ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے خود سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکی سیکرٹ سروس کے اہلکار موقع پر موجود ہیں اور پیش آنے والی صورتحال پر فوری ردعمل دیتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مشتبہ حملہ آور اکیلا ہی تھا۔ افسران نے بتایا کہ مشتبہ شخص حراست میں ہے اور اسے اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ہے۔

’اے بی پی نیوز‘ کی رپوٹ میں کہا گیا ہے کہ 3 ذرائع نے ’سی بی ایس نیوز‘ کو بتایا کہ مشتبہ ملزم کی شناخت 31 سالہ کول ٹوماس ایلن کے طور پر ہوئی ہے، جو کیلیفورنیا کے ٹورنس کا رہنے والا ہے۔ تفتیش سے واقف دو ذرائع نے بتایا کہ ملزم کے پاس ایک شاٹ گن، ایک ہینڈ گن اور متعدد چھریاں موجود تھیں۔

رپورٹس کے مطابق مشتبہ شخص نے 2017 میں کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (کیلیفورنیا ٹیکنیشین) سے انجینئرنگ میں بیچلر کی ڈگری اور 2025 میں کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے۔ وہ ویڈیو گیم ڈویلپر کے طور پر کام کرتا ہے۔ ایلن اس وقت پولیس کی حراست میں ہے، حالانکہ افسران نے ابھی تک اس کے نام کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔ لورا لومر نے بھی ملزم کی شناخت کول تھامس ایلن کے طور پر کی ہے۔

واقعے کے دو گھنٹے بعد وائٹ ہاؤس میں ایک پریس بریفنگ کے دوران صدر ڈونالڈ ٹرمپ، جنہیں اس واقعے میں کوئی نقصان نہیں پہنچا، نے کہا کہ سکیورٹی ایجنسیوں نے بروقت کارروائی کی۔ انہوں نے حملہ آور کو ’بیمار ذہن‘ اور ’پاگل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ بہت تیز تھا۔‘ صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ وہ ہی اس تقریب میں ہدف تھے، تاہم انہوں نے اسے’عوامی تحفظ کے لیے کوئی خطرہ نہیں‘ قرار دیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ ہفتہ کو وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے کی میزبانی کرنے والا واشنگٹن کا ہوٹل خاص طور پر محفوظ نہیں تھا۔

بتادیں کہ یہ ہلٹن ہوٹل ہے، جو 1965 میں کھلنے کے بعد سے کئی اہم سیاسی تقریبات کی میزبانی کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے کے دوران کئی ہتھیاروں سے لیس ایک شخص نے سیکرٹ سروس کی ایک چیک پوائنٹ پر حملہ کردیا، جس کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کی۔ واشنگٹن ڈی سی کے پولیس چیف جیفری ڈبلیو کیرول نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جب مشتبہ شخص چیک پوائنٹ کے قریب پہنچا تو اس کے پاس ایک شاٹ گن، ایک ہینڈگن اور کئی چاقو تھے۔ نیویارک پوسٹ کے مطابق مشتبہ شخص کو گولی نہیں لگی تھی اور اسے جانچ کے لیے مقامی اسپتال لے جایا گیا ہے۔ اس واقعے میں امریکی خفیہ سروس کا ایک ایجنٹ زخمی ہوا ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم ایک استاد بتایا جاتا ہے۔ ڈی سی کی میئر موریل باؤزر نے بتایا کہ ملزم کو حراست میں لے کر مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کی طبی جانچ کی جا رہی ہے۔ وہیں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کش پٹیل نے بتایا کہ ایجنسی جائے وقوعہ سے ملنے والی گن اور خولوں کا فرانزک معائنہ کر رہی ہے اور تقریب میں موجود گواہوں کے بیانات بھی لیے جا رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *